کے ٹو پر موسم انتہائی خراب،علی سدپارہ اور ساتھی ”مسنگ آن کے ٹو“ قرار

20گھنٹے سے رابطہ نہ ہوسکا،چوٹی پر درجہ حرارت منفی63 ڈگری، علی سدپارہ ،جان سنوری اور جے پی مہر بوٹل نیک کے آخری مرتبہ کیمپ 4 آنے کی اطلاع تھی،ریسیکو آپریشن کا آغاز

سکردو دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو پر موسم خراب ہونے کے باعث پاکستانی کوہ پیما علی سدپارہ اور ان کے ساتھیوں سے رابطہ نہیں ہوپارہا ہے ۔ ذرائع کے مطابق علی سدپارہ اور ان کے ساتھی آئس لینڈ کے کوہ پیما جان سنوری اور چلی کے جے پی موہر کل صبح 10 بجے کے ٹو چوٹی کی بوٹل نیک کے قریب پہنچ چکے تھے،ان کے آخری مرتبہ کیمپ 4 آنے کی اطلاع تھی،چوٹی پر اس وقت درجہ حرارت منفی63ڈگری ہے اور گزشتہ 20گھنٹے سے ان کوہ پیماؤں کے ساتھ رابطہ نہیں ہوپایا،علی سدپارہ اور ان کے ساتھیوں کو”مسنگ آن کے ٹو“ قرار دے دیا گیا تھا۔
ہفتہ کی صبح ہی ایکسپیڈیشن کے تینوں کوہ پیماؤں کو لاپتہ قرار دے کر پاک فوج سے فضائی سرچ آپریشن کی درخواست کی گئی تھی، پاک آرمی کے دو ہیلی کاپٹرز کو ریسکیو آپریشن کی زمہ داری دے دی گئی۔

جو پائلٹ کے ٹو کی صورتحال سے اچھی طرح واقف ہے وہ سرچ آپریشن کی قیادت کریں گے،کے ٹو پہاڑ پر اس وقت موسم ابر آلود ہے اور ہوا بہت جلد تیز ہوسکتی ہے۔ ساجد سدپارہ گزشتہ رات ہی کیمپ تھری سے بیس کیمپ پہنچے تھے اور اب وہ بیس کیمپ کی جانب روانہ ہوگئے ہیں ۔

یاد رہے کہ پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ نے گزشتہ روز پاکستان کی بلند ترین چوٹی کے ٹو سر کرلی تھی ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ نے کے- ٹو پر پاکستانی پرچم لہرایا ۔ کے ٹو کی چوٹی پر گزشتہ شام 5 بجے پاکستانی پرچم لہرایا گیا ہے ۔ بتایا گیا ہے کہ اس موقع پر محمد علی سدپارہ کے ساتھ جان سنوری بھی موجود تھے ۔
واضح رہے کہ دنیا کے دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو سر کرنے کی مہم کے دوران ایک حادثے کے نتیجے میں نیپالی کوہ پیما برفانی شگاف میں گر کر لاپتہ ہوگیا جب کہ بلغارین کوہ پیما ہلاک ہوگیا، پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ کے مطابق کے مطابق حادثہ کیمپ تھری سے واپسی پر رسی ٹوٹنے سے پیش آیا، ہلاک اور زخمی ہونے والے کوہ پیمائوں کی تلاش آرمی ہیلی کاپٹر ذریعے شروع کردی گئی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ نیپالی کوہ پیماؤں کی ٹیم نے دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ‘کے ٹو’ کو موسم سرما میں سر کر کے نیا ریکارڈ قائم کیا ۔ نیپالی کوہ پیماؤں کی 10 رکنی ٹیم نے 31 دسمبر 2020ء سے اپنے مہم جوئی کا آغاز کیا تھا اور 16 جنوری 2021ء کو دن کے وقت دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی سر کرنے کا اعلان کیا۔ گلگت بلتستان حکومت نے پہلی بار موسم سرما میں ‘کے ٹو’ سر کرنیکا ریکارڈ قائم کرنیکی تصدیق کرتے ہوئے نیپالی حکومت کی کاوشوں کو سرمائی مہم جوئی کے لیے حوصلہ مند قرار دیا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں