کشمیر سا حسن رکھنے والی حسین وادی سون سکیسر…رانا فیصل جاوید

خوبصورت قدرتی لینڈ سکیپ سے مالا مال وادی سون سکیسر ہر ایک کو نظارے کی دعوت دے رہی ہے

اور بسا اوقات من میں خواہش جاگتی ہے کہ دنیا کے جھمیلوں سے کنارہ کرتے ہوئے کسی حسین وادی کا رخ کیا جائے پر ہم پنجاب کے باشندے یہ سوچ کر اپنی خواہش کو دبا دیتے ہیں کہ ارے یار ایسی وادیاں تو شمالی علاقہ جات میں ہی ہوں گی،طویل مسافت اور کئی دنوں پر مشتمل چھٹیوں کا جوکھم کیسے اٹھائیں اور بے بہا اخراجات لگ برداشت کرنے پڑیں گے، یہ خدشہ الگ کہ سیاحت کے چکر میں نوکری سے سے ہی ہاتھ نہ دھو بیٹھیں۔ ہائے رے یہ بندشیں دنیا داری کی، بوجھ ذمہ داریوں کا کہ جو ہمیشہ ہماری چھوٹی چھوٹی خواہشوں اور خوابوں کے آڑے آتا ہے۔ پر کچھ ہوتے ہیں مجھ جیسے جھلے کملے کہ جو محدود وسائل اور بے انتہا مسائل کے باوجود کوئی نہ کوئی تفریح کی راہ نکال ہی لیتے ہیں۔

اس سنہری وادی میں سینکڑوں قدرتی چشمے، جھیلیں اور آبشاریں ہیں، مشکل راستوں،چڑھائیوں کی وجہ سے بیشتر انسانی رسائی سے بچی ہوئی ہیں

شمالی علاقہ جات یا وادی کشمیر کا رخ کرنے سے تو رہے،سوچا کہ پنجاب میں ہی کوئی خوبصورت وادی تلاش کی جائے چنانچہ گوگل میپ پر تلاش بسیار کا آغاز کیا اور دم بخود رہ گیا کہ پنجاب بھی فطری خوبصورتی اور لینڈ سکیپ میں شمالی علاقہ جات سے کم تو نہیں۔ یہاں فورٹ منرو جیسی خوبصورت پہاڑی وادی کالینڈ سکیپ بھی ہے جو بلوچستان تک محیط ہے اور وسطی پنجاب میں جنت نظیر وادی سون سکیسر کیسے آنکھوں سے پوشیدہ رہ گئی؟ ہم اپنے آس پاس کی خوبصورتی سے اس قدر بے خبر کیسے ہو سکتے ہیں؟۔ شکریہ گوگل کا کہ جو ہمیں باخبر رکھتی ہے اپنے گرد بکھرے فطرت کے حسین رنگوں سے۔یوں وادی سون سکیسر کی خوابناک خوبصورتی کا جو عکس گوگل امیجز کے ذریعے موصول ہوا اس نے ایک پل چین نہ لینے دیا۔

محققین کے مطابق دلکش نظاروں، جھیلوں، چشموں،آبشاروں پر مشتمل وادی سون سکیسر 5سے 6کروڑ سال قبل وجود میں آئی

میں گزشتہ چند سالوں سے سرگودھا میں رہ رہا ہوں اور مزے کی بات یہ ہے کہ سرگودھا سے اس وادی کا فاصلہ 120کلومیٹر ہے جو بہت کم ہے۔ میرا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے جو میدانی اور زرعی علاقہ ہے۔ ہمیں پہاڑوں میں گھری وادیاں زیادہ پُرکشش محسوس ہوتی ہیں۔ سرگودھا کی کرانہ پہاڑیاں ہی مجھے مبہوط کرنے کو کافی ثابت ہوتی رہیں مگر جیسے ہی وادی سون سکیسر کے بارے میں جانا اور اس وادی کا رخ کیا تو پہلے منظر سے لیکر تادم آخر ایسا ہی محسوس ہوا کہ جیسے کسی اور ہی خوبصورت سیارے پر پہنچ گیا ہوں۔

فطرت کے رنگ دیکھنے کے شائق وادی کے گمنام راستوں پر چل پڑتے ہیں اور نایاب نظاروں سے فیض یاب ہوتے ہیں

بذریعہ گوگل دماغ میں جو ایک خاکہ تیار ہوا وادی سون تو اس سے بھی زیادہ خوبصورت نکلی، یہاں قدرتی مناظر کی دلفریب مصوری کو من مچلتا ہے جبکہ من کی اس معصومانہ خواہش کو کیمرے کی آنکھ میں مقید کر کے دلکش لینڈ سکیپ کی عکاسی سے شوق پورا کیا جا سکتا ہے۔یہاں حسن کے شاہکار دیکھ کر خود کو یقین دلانا پڑتا ہے کہ جو مناظر ہم دیکھ رہے ہیں وہ حقیقی ہیں ہم کسی خواب نگری میں نہیں۔

وادی سون میں پالتو جانوروں کے ریوڑ آزادانہ گھومتےدکھائی دیتے ہیں اور انسانوں کو دیکھ کر بدکتے نہیں

سکیسر کے پہاڑی سلسلہ میں واقع اس جنت نظیر وادی کا نام سنسکرت کے لفظ سوہن سے اخذ کیا گیااور یوں خوبصورت نظاروں، جھیلوں، چشموں اور تالابوں کی بدولت یہ وادی سون سکیسر کہلائی۔ سون سکیسر دس ہزار ایکڑ سے زائد اراضی پر مشتمل ہے، سائنسی تحقیق کے بعد لگائے گئے محتاط اندازوں کے بعد کہا جاتا ہے کہ یہ وادی5سے 6کروڑ سال قبل معرض وجود میں آئی۔ظہیر الدین بابر جب اپنے لشکر کیساتھ اس وادی سے گزرا تو قدرتی حسن سے بہت متاثر ہوا اور اس حسن کو دوچند کرنے کیلئے باغات اگانے کا حکم دیا۔ ظہیر الدین بابر نے ان الفاظ میں اس وادی کو چھوٹا کشمیر قرار دیا ”ایں وادی بچہ کشمیر است“۔

ظہیر الدین بابر نے ان الفاظ میں اس وادی کو چھوٹا کشمیر قرار دیا ”ایں وادی بچہ کشمیر است“۔

وا دی سون سکیسر کے انوکھے نظارے سیاحوں کی آنکھوں کو خیرہ کرنے کی صلاحیتوں سے مالا مال ہیں۔یہاں کی پُر شکوہ جھیلیں، باغات، سبزہ زار، آبشاریں، چشمے، جھرنے، غاریں الگ ہی نظاروں کی حامل ہیں اور قدیم طرز تعمیر کے حامل مندر، سرائے، عمارات اپنے اندر قدیم تہذیب و ثقافت کے آثار کو سموئے ہوئے ہیں، یہ جنت نظیر وادی انسانی تخیل سے بھی خوبصورت ہے کہ انسان یہاں قدرت کی کرشمہ کاری پر عش عش کر اٹھتا ہے۔یہاں آپ کو قدرتی ماحول میں نت نئے اور انتہائی خوبصورت پنچھی دیکھنے کو ملتے ہیں جبکہ موسمی پرندے جب ہجرت کر کے یہاں پڑاؤ کرتے ہیں تو وادی کے حسن کو چار چاند لگ جاتے ہیں۔جھیل کنارے خوبصورت پنچھیوں کی اڑان اور اٹھکھیلیاں دل موہ لیتی ہیں۔

وادی سون کی جھیل اوچھالی پر منڈلاتے سائبیریا کے مہمان پنچھی ( تصویر : محمد نعمان اعوان)

یہاں کی خاص بات جو میں نے محسوس کی وہ سکون ہے، یہاں آلودگی نہیں، گندگی و غلاظت کے ڈھیر نہیں، تعفن نہیں، ٹریفک کا شور نہیں۔ ہر طرف سکون ہی سکون ہے، سادگی ہے، فطرت کی رعنائیاں ہیں نت نئی خوشبوئیں ہیں، رنگ ہیں، یہاں فطرت کا دلکش رقص ہے۔ جھیلوں، چشموں اور جھرنوں کے ٹھنڈے پانی میں پاؤں ڈبو کر بیٹھنے سے جو سکون ملتا ہے وہ بیان نہیں کیا جا سکتا۔وا دی سون سکیسر میں سفر کرتے ہوئے آپ کو جگہ جگہ چراگاہیں اور ان میں گھومتے بھیڑ بکریوں، گائے بھینسوں کے ریوڑ دکھائی دیں گے، بھیڑ بکریوں کی منمناہٹ، گائے بھینسوں کے گلے کی گھنٹیاں چار سو سریلی بازگشت کا باعث ہیں، یہ جانور بہت ہی سلیقہ سے سڑک کنارے چلتے ہوئے مناظر میں رنگ بھرتے ہیں۔

وادی سون سکیسر ایک قدرتی چراگاہ اور آزاد جانوروں کا مسکن ہے


اس وادی میں بہت سے خوبصورت گاؤں ہیں، پہاڑیوں کے اوپر اور کہیں پہاڑیوں کے دامن میں بنے یہ گاؤں مثالی ہیں۔ گھروں کو بڑی ترتیب سے بنایا گیا ہے۔ یہاں شہروں کی طرح سہولیات تو نہیں لیکن قدرتی حسن کی رعنائیاں بکثرت ہیں۔ تحریر کی طوالت کے پیش نظر ان کاتفصیلی ذکر کسی اور تحریر میں سہی۔

وادی میں پہاڑیوں پر واقع ایک خوبصورت گائوں

خوشاب سے سون سکیسر روڈ کی بل کھاتی سڑکوں سے گزریں تو دور سے ہی بلند ترین پہاڑی پردادا گولڑہ کا مقام دکھائی دیتا ہے کہ جہاں ایک افغان بزرگ محمد عبداللہ گولڑہ بن عون قطب شاہ شہید کی بطور امانت تدفین کی گئی تھی، بعد ازاں ان کے پوتے میت ساتھ لے گئے تھے۔اب اس جگہ ان سے منسوب مزار ہے اور ساتھ ہی قدیم مسجد ہے جس کے گنبد و مینار دور سے ہی دکھائی دیتے ہیں۔موسم صاف ہو تو خوشاب سے بھی بلند پہاڑیوں پر واقع اس مسجد کے مینار دکھائی دیتے ہیں۔

وادی سون سکیسر کی بلند ترین جگہ پردادا گولڑہ کا مقام
موسم صاف ہو تو دادا کولڑہ کا مقام خوشاب شہر سے بھی دکھائی دیتا ہے

یہ وادی تاریخ و ثقافت اور قدرتی حسن کا خوبصورت سنگم ہے۔ یہاں امب شریف ٹیمپل،تلاجہ قلعہ،اکراند قلعہ، شیر شاہ سوری کے دور کی چیک پوسٹ،مائی والی ڈھیری،مقام بابا کچھی والا فقیر سمیت دیگر قدیم تاریخی مقامات، مندر، گردوارے بھی موجود ہیں اوراچھالی جھیل،کھبیکی جھیل،جاہلر جھیل،گھڑومی جھیل،کنہٹی باغ کے چشمے اور جھیلوں،چانبل روڈ پر چشمہ سلطان مہدی،نرسنگھ پھوار، چشمہ ڈیپ شریف سمیت سکھوں کے تعمیر کردہ تالابوں کے علاوہ قدرتی تالاب، جھیلیں،چشمے، جھرنے بھی بکثرت ہیں۔اب تک40سے زائد چشمے علم میں آئے ہیں، مزید کتنے ہیں کچھ کہہ نہیں سکتے۔

اچھالی جھیل کے پاس سرمئی شام کا منظر

مقامی لوگوں سے جب بھی بات ہوئی وہ یہ کہتے ہیں کہ جناب! ”اس دلکش سنہری وادی میں سینکڑوں قدرتی چشمے ہیں، بہت سے تو ایسے ہیں کہ مشکل راستوں،چڑھائیوں کی وجہ سے ان تک انسان رسائی بھی حاصل نہیں کر سکا۔ سمندر میں جیسے موتیوں کی بہتات ہوتی ہے ایسے ہی یہ وادی چشموں، جھیلوں اور آبشاروں کا گڑھ ہے، بات ساری جستجو کی ہے، کھوج کی ہے۔ جو فطرت کے نئے رنگ دیکھنے کے شائق ہوتے ہیں وہ اس وادی کے گمنام راستوں پر چل پڑتے ہیں اور نایاب نظاروں سے فیض یاب ہوتے ہیں“۔

View this post on Instagram

A post shared by Saad Mirza (@thesaadmirza)

جب پہلی مرتبہ وادی سون سکیسر جانے کا اتفاق ہوا تو اس وقت ہم چشمہ سلطان مہدی بھی گئے۔ چشمہ سلطان مہدی ایک نیک بزرگ سے منسوب ہے جن کا مزار بھی قریب ہی واقع ہے۔

چشمہ سلطان مہدی کے قریب ایک نیک بزرگ سے منسوب مزار شریف

چشمہ پہاڑوں کے بیچ واقع ہے اور وہاں تک پہنچنے کیلئے پہلے پہاڑ کے اوپر سے ہو کر نیچے اترنا پڑتا ہے جو کافی مشقت بھرا کام ہے۔ انسان تھکاوٹ سے چور ہو جاتا ہے پر جیسے ہی چشمے کے بہتے پانی پر نظر پڑتی ہے تو ساری تھکاوٹ جاتی رہتی ہے اور اس چشمے کا ٹھنڈا میٹھا پانی پینے سے انسان ہشاش پشاش ہو جاتا ہے اور جسم میں توانائی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ چشمہ سلطان مہدی کا پانی بہت ہی شفاف اور میٹھا ہے جبکہ چشمہ میں انتہائی خوبصورت مچھلیاں تیرتی دیکھ کر آنکھوں میں ٹھنڈک سی اتر جاتی ہے۔

چشمہ سلطان مہدی کا پانی بہت ہی شفاف اور میٹھا ہے جس میں تیرتی انتہائی خوبصورت مچھلیاں آنکھوں کو ٹھنڈک بخشتی ہیں
چشمہ سلطان مہدی کے
شفاف اور ٹھنڈے پانی میں نہانے کا تجربہ بہت ہی خوشگوار ہے

چشمہ مختلف اقسام کے درختوں میں گھرا ہے،اسی طرح چاروں اطراف بلند و بالا پہاڑیاں سبزے سے ڈھکی ہوئی ہیں۔ گرمیوں میں یہاں دور دراز سے لوگ ٹولیوں کی صورت میں آتے ہیں اور چشمہ کے پانی میں نہا کر خوب لطف اندوز ہوتے ہیں۔ کنہٹی باغ میں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال دیکھنے کو ملتی ہے۔کنہٹی باغ فیملی کی سیاحت کیلئے موزوں ہے جبکہ چشمہ سلطان مہدی کے پر خطر راستوں پر خواتین اور بچوں کیلئے چلنا قدرے خطرناک ہے تاہم یہاں بھی بچوں اور خواتین کی ٹولیاں دیکھ کر ان کی ہمت کو داد دینے کا جی چاہتا ہے۔

وادی میں پائے جانے والے درخت اور پھول بہت منفرد ہیں

جب پہلی مرتبہ اس وادی کا رخ کیا تونوشہرہ سے کھبیکی جھیل کی طرف جاتے ہوئے راستے میں مردوال کے مقام پر دور عمر رسیدہ درخت دیکھے۔ ایک درخت سڑک کے ایک کنارے جبکہ دوسرا درخت دوسرے کنارے پر تھا اور کافی اونچائی پر دونوں بغل گیر سے دکھائی دیے۔ وہ نظارا قابل دید تھا۔ ایسے کہ جیسے دو دیوانوں کا دائمی ملن ہوا ہو اور وہ دھیمی سروں میں اقبال کے شعر کا یہ مصراگنگنا رہے ہوں ” اب تک مگر ہے باقی نام و نشاں ہمارا“۔

محکمہ ہائی وے نے سڑک کنارے موجود بہت سے درخت کاٹ دیے ہیں، یہ دونوں درخت بھی ان کی سفاکیت کا شکار ہو کر اپنا وجود کھو بیٹھے

جب کچھ عرصہ بعد دوبارہ یہاں سے گزر ہوا تو دل کو ایک دھچکا سا لگا کیونکہ دونوں درختوں کو صفحہ ہستی سے مٹا کر حسن کو گہنا دیا گیا تھا۔یہ درخت تو رونق کا باعث تھے اب ہر طرف ویرانی کا آسیب تھا۔ مقامی دوست سے جب اسے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ”محکمہ ہائی وے نے سڑک کنارے موجود بہت سے درخت کاٹ دیے ہیں، یہ دونوں درخت بھی ان کی سفاکیت کا شکار ہوئے ہیں“۔بدقسمتی سے سرکاری اہلکار ہی درختوں کے دشمن بنے ہوئے ہیں، بہت سے خوبصورت، قدیم اور نایاب درخت محکمانہ بے وقوفیوں کی بدولت اپنا وجود کھو بیٹھے ہیں۔ ہم درختوں کے قاتل کیوں ہیں، ہم اتنے بے حس کیوں ہیں؟ یہ سوالات میرے دل و دماغ پر بار بار دستک دیتے رہے پر میں دل و دماغ کو اس کا جواب دینے سے اب تک محروم ہوں۔

اس وادی کا حسن انوکھا اور مبہوط کر دینے والا ہے۔عمر بھر اس حسین خطے میں گزرے خوبصورت لمحات، دلکش مناظر زندہ رہیں گے، میں حیران ہوں، کہ انتہائی خوبصورت وادی سون سکیسر عالمی سیاحوں کی نظروں سے اوجھل کیوں ہے۔بی بی سی اردو کیلئے لکھنے والی مصنفہ منزہ انوار نے بجا کہا ہے کہ ”وادی سون کے دلکش نظارے سیاحوں کی راہ دیکھ رہے ہیں“۔ قدرتی حسن کے پرستاروں کی عدم موجودگی کسی المیہ سے کم تو نہیں۔

قدرتی حسن کے پرستاروں کی اس وادی میں عدم موجودگی کسی المیہ سے کم تو نہیں

امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے کی بدولت پاکستان سیاحت کیلئے ایک مرتبہ پھر فہرست میں اوپر آ چکا ہے اور سیاح جوک در جوک پاکستان کے مختلف خوبصورت علاقوں کی سیاحت کو آ رہے ہیں جبکہ وادی سون سکیسر ابھی تک عالمی سیاحوں کی خاطر خواہ توجہ حاصل نہیں کر سکی کیونکہ جب بھی قدرتی نظاروں کی بات ہو تو شمالی علاقہ جات کا تذکرہ کیا جاتا ہے حالانکہ پنجاب کی یہ جنت نظیر وادی کسی بھی طرح شمالی علاقہ جات سے کم نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ سیاحت کی دولت پر توجہ دیتے ہوئے وادی سون سکیسر کو عالمی سطح پر نمایاں کرے تاکہ عالمی سیاح اس خوبصورت وادی کی طرف کھنچے چلے آئیں۔خوبصورت قدرتی لینڈ سکیپ سے مالا مال وادی سون سکیسر ہر ایک کو نظارے کی دعوت دے رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں