افلاطون کی ریاست اور پاکستان کی ریاست—- خالد فاروق

یوٹوپیا کا مطلب ہے ایسی جگہ، ایسی ریاست جہاں کوئی گڑ بڑ نہ ہو، جہاں کوئی خرابی نہ ہو جہاں کوئی ناانصافی نہ ہو۔ افلاطون کی کتاب “دی ری پبلک”کو پہلی یوٹوپیا کہا جاتا ہے۔ مارٹن سیمورسمتھ اپنی تصنیف “سو عظیم کتابیں”میں “ری پبلک” کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کے اگر ہم زمین پر جنت بنانے کا سوچیں تو دی ری پبلک سے کچھ تصورات مستعار لینے پڑیں گے۔ امریکی مصنف ایمرسن نے ریپبلک کے بارے میں وہی الفاظ کہے ہیں جو حضرت عمر نے قرآن کے متعلق کہے تھے۔ ” دنیا کے کتب خانوں کو جلا دو کیونکہ ان کے اندر جتنی کام کی باتیں ہیں وہ سب اس کتاب میں موجود ہیں”۔ ” ری پبلک” کو ایک اور نام “تحقیق عدل” بھی دیا جاتا ہے۔ یعنی افلاطون اپنی کتاب ریاست میں عدل کی تلاش اور جستجو کرتا نظر آتا ہے کہ ریاست میں ظلم کہاں ہے اور عدل کہاں ہے۔میں نے افلاطون کا ایک قول پڑھا تھا۔ “موسیقی کی ایجادات ریاست کے لئے خطرے سے خالی نہیں ہیں۔ جب موسیقی کے طور طریقے بدلتے ہیں تو ان کے ساتھ ریاست کے قوانین بھی بدلتے ہیں”۔ خیر مجھے کچھ سمجھ نہ آئی کے آخر موسیقی ایک ریاست کے لیے اتنی اہم اور پر خطر کیسے ہو سکتی ہے۔ پھر جب میں نے “ریپبلک” پڑھی تو مجھے اس کا جواب ملا۔ افلاطون اپنی کتاب یا اپنی ریاست میں محافظوں یا مددگاروں (ان کو آپ فوجی یا حکمران بھی کہہ سکتے ہیں) کی تعلیم و تربیت کے لئے دو طریقے وضع کرتا ہے۔ نمبر ایک ذہنی نشونما کے لئے موسیقی اور نمبر دو جسمانی نشونما کے لیے ورزش۔ اب افلاطون موسیقی اور شاعری کی چند اقسام چند مخصوص شرائط کے ساتھ اپنے بچوں کی تربیت کے لیے منتخب کرتا ہے۔ اور وہ کہتا ہے جب یہ موسیقی بدلے گی تو ان بچوں کی طبیعتیں بھی بدل جائیں گی اور ریاست کے قوانین بھی بدل جائیں گے۔ افلاطون بےوجہ رونے دھونے اور بے کار اور بزدل بنانے والی شاعری اور موسیقی پر پابندی عائد کر دیتا ہے۔ کیوں کہ یہ بچوں کی تربیت کے لیے نقصان دہ ہے۔ افلاطون کہتا ہے کہ ایک مثالی ریاست تب قائم ہو سکتی ہے جب ہر ادارہ اپنی حدود میں رہ کر کام کرے۔آج سے تقریبا تین ہزار سال پہلے لکھی جانے والی اس کتاب میں بیان کردہ مسائل ہمیں آج بھی نظر آتے ہیں۔

افلاطون کہتا ہے کہ جب لوگوں کو مخلص اور قابل حکمران نہیں ملتے تو وہ ان لوگوں کو اقتدار سونپ دیتے ہیں جن میں سیم و زر کی ایک مخفی اور خوفناک خواہش ہوتی ہے۔ یہ مال کو کال کوٹھریوں میں جمع کریں گے ان کے اپنے خزانے اور گودام ہوں گے۔ جن میں مال و دولت کو چھپا کر رکھ سکیں۔ یہ محل بنائیں گے جو ان کے انڈوں کےلئے مناسب حال گھونسلے ہوں گے۔ اور ان میں اپنی بیویوں پر یا اور جس پر چاہیں گے بڑی بڑی رقمیں صرف کریں گے۔ یہ کنجوس ہوں گے کیونکہ جس روپے کی اتنی قدر کرتے ہیں اسے علانیہ حاصل کرنے کا کوئی ذریعہ ان کے پاس نہیں ہے۔ یہ اپنی خواہش کو پورا کرنے کے لیے وہ مال خرچ کرتے ہیں جو دراصل دوسرے کا ہے۔ یہ اپنی مسرتیں چوری سے حاصل کرتے ہیں۔ اور پھر جس طرح بچے اپنے باپ سے بھاگتے ہیں یہ قانون سے فرار ہوتے ہیں۔ اس قسم کی حکومت خیر اور شر کی ایک ملاوٹ ہے۔
اب آپ ان باتوں کو چاہیں تو ن لیگ کے ساتھ جوڑ دیں کہ ”کھاتا ہے تو لگاتا بھی تو ہے” چاہیں تو عمران خان کے ساتھ جوڑ دیں یا پی پی کے ساتھ آپ کی اپنی مرضی۔

افلاطون مزید کہتا ہے کہ اگر مناسب اور خالص حکمران نہ ملیں تو لوگ بعض اوقات ان لوگوں کو حکمران بنا دیتے ہیں جنہیں امن سے زیادہ جنگ اچھی لگتی ہے۔ پاکستان میں ساری جنگیں مارشل لا کے دور میں لڑی گئیں۔ وہ 1965 کی جنگ ہو، وہ 1971 کی جنگ اور سقوط ڈھاکہ ہو،وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو۔ سب کی سب آمروں نے عوام کو بیوقوف بنانے اور اقتدار کو طول دینے کے لئے لڑیں۔ افلاطون مزید کہتا ہے کہ معاشرے کے لیے ایک اور بڑا خطرہ وہ لوگ ہیں جن کو کوئی کام نہیں ہوتا۔ وہ فارغ اور بے کار لوگوں کو نکھٹو کہتا ہے۔ یعنی جیسے شہد کے چھتے میں نکھٹو ہوتا ہے۔ خدا نے ان اڑنے والے نکھٹوؤں کو تو بے ڈنک بنایا ہے۔ لیکن ان چلنے والوں میں کچھ تو اس نے بے ڈنک بنائے ہیں لیکن بعض کے تو بہت ہی خوفناک ڈنک بھی ہوتے ہیں۔ بے ڈنک طبقے میں تو وہ ہیں جو بڑھاپے میں پہنچ کر اپنی زندگی مفلس بھکاری کے طور پر ختم کرتے ہیں۔ اور ڈنک والے گروہ سے وہ طبقہ نکلتا ہے جسے مجرم کہتے ہیں۔ صاف بات ہے کہ جب کبھی تم کسی ریاست میں مفلس بھکاری دیکھو تو بس سمجھ لو کہ یہیں کہیں پڑوس میں چور، گرہ کٹ راستے میں لوٹنے والے اور ہر قسم کے بدمعاش بھی ضرور پوشیدہ ہوں گے۔

اور آج بھی یہی کہا جاتا ہے کہ جرائم غربت اور بیروزگاری کہ کوکھ سے جنم لیتے ہیں۔ اور غربت اور بیروزگاری دولت اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم سے جنم لیتی ہیں۔ دنیا کے عظیم فلسفی کی عظیم کتاب کا خلاصہ ایک کالم میں سمونا ناممکن ہے۔ اس لئے چند ایک باتوں کا تذکرہ ہی ممکن تھا جو میں نے کر دیا ہے۔ پوری کتاب ایک کالم میں سمجھنا سمجھانا میرے بس کی بات نہیں۔

خالد فاروق

خالد فاروق بنیادی طور پر طنز و مزاح پہ مشتمل کالم لکھتے ہیں۔ان کی زیادہ دلچسپی معاشرتی اور تاریخی امور میں ہے۔ بعض اوقات خالد فاروق سیاسی اور مذہبی معاملات پہ بھی قلم اٹھاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں