طلباء اب بی ایس کے بعد پی ایچ ڈی میں داخلہ لے سکیں گے

طلباء اب بی ایس کے بعد پی ایچ ڈی میں داخلہ لے سکیں گے، پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے Y کیٹیگری کے جنرل میں ریسرچ پیپر چھپوانا ضروری ہوگیا
اسلام آباد ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ( ایچ ای سی) کی جانب سے نئی پی ایچ ڈی پالیسی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایچ ای سی کی جانب سے نئی پی ایچ ڈی پالیسی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق پی ایچ ڈی میں داخلے کے لیے قوانین کو تبدیل کیا گیا ہے ۔ نوٹیفیکیشن کے مطابق جامعات میں پہلے سے انرولڈ پی ایچ ڈی کے طلبہ پر اس پالیسی کا مکمل اطلاق نہیں ہوگا تاہم کچھ جزوی حصوں سے پرانے طلبہ بھی فائدہ لے سکیں گے ۔
ایچ ای سی کی جانب سے جاری کردہ نئی پالیسی کے مطابق پی ایچ ڈی طلباء کے تھیسس کی ایویلیو ایشن کے حوالے سے ترمیم کی گئی ہے۔ پی ایچ ڈی تھیسس کی ایویلیو ایشن اب پاکستانی پروفیسر بھی کرسکتے ہیں اور اگر طالب علم اپنا ریسرچ پیپر ایکس کیٹگری کے جنرل میں شائع کروالیں تو اس کے پی ایچ ڈی تھیسس کو صرف ایک ہی پروفیسر کے پاس ایویلیو ایشن کے لیے بھیجا جاسکتا ہے۔

نوٹیفکیشن لنک

نئی پالیسی کی اس شق سے پہلے سے انرولڈ پی ایچ ڈی طلبہ بھی فائدہ لے سکیں گے ۔ نئی پالیسی کے تحت پی ایچ ڈی ڈگری کے حصول کے لیے “y” کیٹگری میں ایک ریسرچ پیپر چھپوانا ضروری ہوگیاہے ۔نئی پالیسی کے تحت طلبہ کو اپنی پی ایچ ڈی ڈگری کم سے کم تین اور زیادہ سے زیادہ 8 سال میں پوری کرنی ہوگی اگر کوئی طالب علم کسی ناگزیر وجہ کی بنا پر اس عرصہ میں اپنی ریسرچ مکمل نہ کرسکے تو مجاز اتھارٹی اسے مزید سال کی مہلت دے سکتی ہے۔
نئی پی ایچ ڈی پالیسی کے تحت پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ڈاکٹریٹ کے خواہشمند طلبہ کے لیے محض اپنے ہی ڈسپلن میں پی ایچ ڈی کرنے کی عائد شرط ختم کردی گئی ہے۔ جبکہ نئی پالیسی کے مطابق طلبہ 4 سالہ بی ایس کے بعد براہ راست پی ایچ ڈی کرسکیں گے۔ طلبہ کے لیے ایم فل لیڈنگ ٹوپی ایچ ڈی کے دروازے تو بند رکھے گئے ہیں تاہم دوران پی ایچ ڈی مطلوبہ قابلیت کی بنیاد پر صرف ایم ایس/ایم فل ڈگری لی جاسکے گی۔اسی طرح پی ایچ ڈی کرنے والے طلبہ کے لیے مطلوبہ مدت میں کم از کم 2 سال تک اپنے ملک میں رہنے کی پابندی بھی عائد کی گئی ہے۔ پالیسی ڈرافٹ کے مطابق نئی پالیسی یکم جنوری 2021سے قابل اطلاق ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں