شکریہ ٹامس ایلوا ایڈیسن—-خالد فاروق

نامور امریکی تاریخ دان اور مصنف ول دیورانٹ سے ایک انٹرویو کے دوران سوال کیا گیا کہ”اگر میں آپ سے کہوں کہ تاریخ کے سب سے زیادہ متاثر کن شخص کا نام لیں تو کیا وہ نام کارل مارکس کا ہوگا”

ویل ڈیورانٹ نے جواب دیا کہ”اگر آپ لفظ کے وسیع ترین مفہوم میں بات کریں تو پراثر کے معاملے میں سب سے زیادہ حصہ ایڈیسن جیسے تکنیکی موجدین کو دینا پڑے گا۔ بلاشبہ بجلی کی ترقی نے دنیا کو کسی بھی مارکسی پراپیگنڈے کی نسبت کہیں زیادہ منقلب کیا ہے”۔

ہنری ٹامس کی دنیا کے عظیم موجد (ٹامس ایڈیسن) پر لکھی گئی کتاب جس کا اردو ترجمہ محمد سعید نے کیا ہے پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ویسے تو یہ کتاب اتنی جامع اور بہترین ہے کہ جس کا کوئی سا بھی حصہ اٹھا کر آپ کالم لکھ سکتے ہیں۔ مگر میں اس کتاب میں سے چند دلچسپ اور سبق آموز واقعات اور باتوں کا ذکر کروں گا۔ چھ سال کی عمر میں ایڈیسن نے پہلا سائنسی تجربہ کیا۔ یہ دیکھنے کے لئے کہ لکڑیوں کے ڈھیر کو آگ لگانے کے بعد کیا ہوتا ہے۔ اس نے باپ کی لکڑیوں کے ڈھیر کو آگ لگا دی۔ اس تجربے کا انعام اسے سب کے سامنے باپ سے پٹائی کی صورت میں ملا۔ ایڈیسن کو یہ بات پریشان کرتی تھی کہ آخر پرندوں کے اڑنے کا راز کیا ہے؟اور اس کا نتیجہ اس نے یہ نکالا کہ چونکہ پرندے کیڑے مکوڑے کھاتے ہیں اس لیے اڑ سکتے ہیں۔ تو اس نے کیڑے مکوڑے اکھٹے کر کے، کوٹ کر، ان کا شربت بنا کر گھر میں کام کرنے والی لڑکی کو پلا دیا۔ لڑکی اس تجربے پہ بجائے اڑنے کے زمین پر گر گئی اور پیٹ کے درد کی وجہ سے ٹرپنے لگی۔

ایڈیسن کے سکول کے استادوں نے اسے گندا انڈا قرار دے کر “اس پر وقت ضائع کرنا بیکار ہے” کہا تو ایڈیسن کی ماں نے اسے خود پڑھانا شروع کر دیا۔ دس برس کی عمر میں اس قابل احترام ماں نے اسے گبن کی “سلطنت روم کا زوال اور خاتمہ”ہوم کی “تاریخ انگلستان”سیزر کی “تاریخ عالم”اور “سائنس کی لغات” ایسی کتابیں پڑھا دیں تھیں۔ وہ ان کتابوں کو پوری طرح نہ سمجھ سکا مگر ان کتابوں کے مطالعہ سے اس نے عمر بھر کے لیے سنجیدگی اور گہرائی کے ساتھ سوچنے اور غور کرنے کی عادت ضرور حاصل کر لی۔ ایڈیسن نے کم عمری میں ہی ریلوے میں اخبار فروشی کا کام شروع کر دیا تھا۔ اور یہ اخبار وہ خود چھاپہ کرتا تھا۔ اس کام کے دوران اسے ایک حادثہ بھی پیش آیا وہ یہ کہ ایک دن ٹرین سیٹی دیے بغیر چل پڑی تو ایڈیسن ٹرین کی طرف لپکا۔ مگر وہ اپنی گرفت مضبوط نہ کر سکا اور گاڑی سے گرنے ہی والا تھا کہ کنڈکٹر نے اسے پکڑنے کی کوشش کی۔ کنڈکٹر کے ہاتھ ایڈیسن کے کانوں کو پڑ گئے۔ یوں اس کی جان تو بچ گئی مگر اس کی قوت سماعت متاثر ہوگئی اور وہ اونچا سننے لگا۔ اپنی عمر کی آخری حصے میں ایڈیسن اپنی اس تکلیف کو ایک نعمت تصور کرتا تھا۔ وہ خوش ہو کر کہا کرتا تھا” میں دنیا کے شور و غل سے محفوظ ہوں میرے بہرے پن نے مجھے اس قابل بنا دیا ہے کہ میں یکسوئی کے ساتھ کام پر غور کر سکوں”۔ ایڈیسن نے ٹیلیگرام، پرنٹر، ٹیلی گراف، بجلی، بلب، سٹوریج بیٹری، فونوگراف کیمرہ، اور دوسری کئی ایجادات کر کے دنیا کو ترقی اور آسانی کی راہ پر ڈال دیا۔ ایڈیسن کی خوش قسمتی یہ تھی کہ اس کو تجربات کرنے کے لیے اجازت اور سرمایہ میسر آتا رہا۔ بجلی کی ایجاد جیسے انقلابی تجربے کے لیے اسے بےحد سرمائے کی ضرورت تھی جو اس نے سرمایہ داروں کو قائل کر کے حاصل کیا۔جب اس سے کسی نے پوچھا کہ اس نے ایجادوں سے کس قدر دولت جمع کی ہے تو اس نے جواب دیا۔ ” اس میں کوئی شک نہیں کہ میں نے بہت سی دولت جمع کی ہے لیکن دولت میرے پاس باقی نہ رہ سکی۔ کیوں کہ میں ہمیشہ تجربے کرتا رہتا ہوں اور تجربوں میں بے شمار دولت خرچ کرنی پڑتی ہے”۔ اس بات کو آپ اس طرح سمجھیں کہ فونوگراف کو ہر اعتبار سے ایک مکمل مشین بنانے کے لئے اس نے پورے تیس لاکھ ڈالر اور کئی سال لگا دیے۔ 9 دسمبر 1914 کی رات اس کی کارخانے میں آگ لگنے سے تقریبا پچاس لاکھ پاؤنڈ کا نقصان ہو گیا۔ چھ عمارتیں جل کے راکھ ہو گئیں اس کے دوستوں کا خیال تھا ‘اب ایڈیسن ختم ہوگیا”۔ مگر ایڈیسن کو ملبے سے اپنی ایک تصویر ہاتھ لگی جس کا شیشہ ٹوٹ گیا تھا مگر تصویر پر خراش بھی نہ آئی تھی۔ تو ایڈیسن نے مسکراتے ہوئے چہرے پر نگاہ ڈالی اور ہنستے ہوئے کہا”اس آگ سے میرا بال بھی بیکا نہیں ہوا”

اسے ہمیشہ اس بات کی شکایت رہی ہے کہ اسے کام کرنے کے لیے کافی وقت نہیں ملتا۔ اس لیے اس نے ایک نامہ نگار کے سوال”مسٹر ایڈیسن اگر تمہیں اپنی جائے پیدائش کے انتخاب کا موقع دیا جائے تو تم کون سی جگہ پسند کروگے”کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا”مریخ، اس لیے کہ مریخ کے باشندوں کا دن ہمارے دن سے چالیس منٹ بڑا ہوتا ہے۔ ایڈیسن کو جب کسی چیز کی سمجھ نہ آرہی ہوتی یا کسی مسئلے کا حل نہ مل رہا ہوتا تو اس کے متعلق جتنی ممکن ہوتی کتاب منگوا کر پڑھ ڈالتا اور ناممکن کو ممکن بنا دیتا۔ کتابوں سے تعلق نے ایک بار اسے موت کے دہانے پہنچا دیا تھا مگر اس کی قسمت اچھی تھی۔ ہوا کچھ یوں کہ ایڈیسن جب سنسناٹی میں تار بابو تھا تو تب بھی وہ بہت کتابیں پڑھتا تھا۔ ایک رات وہ نیلام گھر سے خریدے ہوئے پرچوں کا بنڈل لیے گلی میں چل رہا تھا کہ اس نے پستول چلنے کی آواز سنی اور کوئی شے اس کے کان کو چھو کر گزر گئی۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو ایک ہانپتے کانپتے سپاہی نے اسے حکم دیا اپنا سامان نیچے پھینک دو۔ دراصل ایڈیسن پولیس والے کو مشتبہ دکھائی دیا تھا تو اس نے ایڈیسن کوآواز لگائی مگر ایڈیسن بہرہ ہونے کی وجہ سے سن نہ سکا تو سپاہی نے گولی چلا دی۔ ایڈیسن نے بنڈل کھول کا سپاہی کو دکھایا تو اس نے کہا اگر میرا نشانہ اچھا ہوتا تو تم اب تک مر چکے ہوتے۔
مگر ایڈیسن کی بلکہ مجھے لگتا ہے پوری دنیا کی قسمت اچھی تھی کہ ایڈیسن بچ گیا۔ ورنہ آج اس کی ایجادات کے بغیر دنیا پتا نہیں کہاں کھڑی ہوتی۔ آپ جب بھی بلب آن کریں، بجلی استعمال کریں، گانے سنیں، ویڈیو دیکھیں، ویڈیو کیمرہ استعمال کریں یا گاڑی میں بیٹری لگائیں تو ایک بار ضرور کہہ دیا کریں ‘شکریہ ٹامس ایڈیسن’یقیناً وہ اس کا حقدار ہے۔

خالد فاروق

خالد فاروق بنیادی طور پر طنز و مزاح پہ مشتمل کالم لکھتے ہیں۔ان کی زیادہ دلچسپی معاشرتی اور تاریخی امور میں ہے۔ بعض اوقات خالد فاروق سیاسی اور مذہبی معاملات پہ بھی قلم اٹھاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں