صدر ٹرمپ کا تاریخی کارنامہ، امریکہ کے 50 فیصد اعلیٰ تعلیمی وظائف پاکستانی خواتین کو ملیں گے۔

صدر ٹرمپ نے رخصت ہونے سے پہلے ایک تاریخی کام کرتے ہوئے ملالہ ایجوکیشن ایکٹ پہ دستخط کردیے. اب امریکہ میں 50% فیصد اعلیٰ تعلیم کی انٹرنیشنل سکالرشپس پاکستانی خواتین کو ملیں گی۔۔

واشنگٹن: امریکی صدر کا رخصت ہونے سے پہلے تاریخی کارنامہ، ملالہ ایجوکیشن ایکٹ پر دستخط کرکے ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی خواتین کے دل جیت لئے۔ اب امریکہ میں اعلیٰ تعلیم کے بین الاقوامی سکالرشپس کا 50 فیصد پاکستانی خواتین کو ملے گا۔ تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایکٹ کو قانون بنانے کے لیے دستخط کردیے ہیں جس کے مطابق میرٹ کی بنیاد پر اعلیٰ تعلیم کے اسکالر شپ پروگرام کے تحت 50 فیصد تعلیمی وظائف پاکستانی خواتین کو دیے جائیں گے۔
وائٹ ہاؤس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ’13 جنوری کو صدر نے ملالہ یوسف زئی ایکٹ نامی قانون پر دستخط کردیے، جو امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کو میرٹ اور ضرورت کی بنیاد پر اسکالر شپس کے پروگرام کے کم از کم 50 فیصد تعلیمی وظائف پاکستانی خواتین کو فراہم کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔
مذکورہ بل سب سے پہلے گزشتہ برس مارچ میں ایوان نمائندگان سے منظور ہوا تھا جس کے بعد یکم جنوری کو امریکی سینیٹ نے بھی اس کی منظوری دے دی تھی۔
یہ بل پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی اسکالر شپس پروگرام کے تحت سال 2020 سے 2022 تک کے 50 فیصد تعلیمی وظائف پاکستانی خواتین کو فراہم کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔ مذکورہ تعلیمی وظائف متعدد اقسام کے مضامین میں قابلیت کے معیار کے مطابق دستیاب ہوں گے۔
بل کے تحت یو ایس ایڈ کو پاکستان کے پرائیویٹ سیکٹر اور امریکا میں موجود پاکستانی کمیونٹی سے مشاورت کرنے اور سرمایہ کاری حاصل کرنا درکار ہے تا کہ پاکستان میں تعلیم کی رسائی کو وسیع اور بہتر بنایا جاسکے۔ ملالہ اب پاکستان کے علاوہ افریقا، شام اور دیگر خطوں کے تعلیم سے محروم بچوں کی بھی آواز بن گئی ہیں۔
ملالہ یوسفزئی خود پر ہونے والے حملے کے بعد سے برطانیہ میں مقیم ہیں اور یہ برطانیہ سے ہی اپنی تعلیم حاصل کررہی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں