“بے شک ہر مشکل کے بعد آسانی ہے”

کبھی کبھار کرب کی ان حدوں سے ہم گزر جاتے ہیں جہاں درد لکھنے لگو تو یوں معلوم ہوتا ہیکہ درد کی شدت سے قلم ٹوٹ جائے گا،جہاں سر کی رگیں پھٹنے کے آخری مراحل پر ہوتی ہے،جہاں لگتا ہے کہ موت گلے لگا لے گی، لیکن پھر بھی ہم جی رہے ہوتے ہے ۔مسکراہٹوں کا انتہائی کرب ناک کھیل کھیل رہے ہوتے ہیں، گھاوں کھا کر بھی قہقہہ لگاتے ہے ۔ہم پھر بھی جی رہے ہوتے ہے ۔یہ سب کتنا عجیب ہے نا؟درد مارتا بھی نہیں ہے اور جینے بھی نہیں دیتا ۔پر معلوم ہے کیا ہم ایسی صورتحال میں بھی صحتیابی کا خول خود پر چڑھائے مسکرا دیتے ہے ،کسی کو کیا معلوم کہ یہ جبرا دنیا کے لیے مسکرانا اندر ہی اندر ختم کردیتا ہے ۔جانتے ہو اس کرب کو سہنا ایک کرب ہے ، اور اس سے نکلنا ایک فتح لیکن عموما وہ فاتح جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔لیکن مومن کو یقین ہے اس بات کا کہ درد چاہے جتنا بھی ملے ،مشکل حالات کتنے ہی جان لیوا کیوں نہ ہو ۔پھر بھی ایک امید ہے جو زندگی کی کرن دکھاتی ہے اور وہ یہ ہیکہ مشکل وقت کے بعد آسانی ضرور آتی ہے،درد کے بعد راحت ضرور ملتی ہے۔کیونکہ تمام جہانوں کا مالک میرا رب فرماتا ہے

“بے شک ہر مشکل کے بعد آسانی ہے”
ازقلم بختاور نور

Avatar

صحافی | اسلام آباد

اپنا تبصرہ بھیجیں