سوشل میڈیا پرینکس

عبدالرحمٰن قیصر (اسسٹنٹ پروفیسر سرگودھا یونیورسٹی) سے چند سوالات
🖊️پرینکس کا مطلب کیا ہے؟

لفظ پرینکس کا بنیادی طور پر مطلب ہے ہنسی مذاق اور شرارت کرنا. یہ دور سوشل میڈیا کا دور ہے اور سوشل میڈیا ٹرینڈز ہی اب ہمارے معاشرے کے حقیقی عکاس بن چکے ہیں. ہم نے بہت سے ٹرینڈز دیکھے. اک وقت تھا جب سیلفی کا ٹرینڈ عروج پر تھا مگر اب نوجوان نسل اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر ویڈیو ٹرینڈز میں مگن ہے. اب اس صورتحال میں پرینک اک توجہ طلب صورتحال اختیار کر چکا ہے. اس کا مقصد شرارت کرنا ہے اس کا مقصد ہنسی مزاح کرنا ہے. اب دو صورتیں ہیں:
اول یہ کہ پرینک میں شامل کردار ویڈیو بنانے سے پہلے جانتے ہوں کہ ہم کیا کرنے جا رہے ہیں.
بصورتِ دیگر اچانک کسی سے بھی کچھ سوالات پوچھ کر یا شرارت کر کے ویڈیو بنائی جائے.
اور اب ان دونوں صورتوں کو ہم اپنے معاشرے میں دیکھ رہے ہیں.

🖊️نیگیٹو ٹرینڈ جس کی سب سے اہم مثال ہمارا ہمسایہ ملک ہے,اس کے بارے آپ کی کیا رائے ہے؟
اس سوال پر جناب عبد الرحمٰن قیصر نے انتہائی تاسف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی نوجوان نسل کا منفی رویوں سے بھر پور پرینکس کرنا معاشرتی اقدار کی برملا توہین ہے. انہیں جو بھی نام دیا جائے مگر سوشل میڈیا پر ایسی نا زیبا حرکات کا سامنے لایا جانا کسی طور مثبت فعل نہیں.
اگر ہم اپنے معاشرے کی بات کریں تو پاکستان میں پرینکس شرارت سے شروع ہوئے تھے لیکن اب سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز بھی ہیں جن کی بنیاد اسلحہ اور جنسی اختلاط ہیں. اس کے علاوہ ٹیلی ویژن پر براہِ ِراست پرینکس نشر کیے جا رہے ہیں جو کہ سوال و جواب پر مبنی ہیں اور کسی طرح بھی سماجی بھلائی میں مثبت کردار ادا نہیں کر رہے. یقینی طور پر یہی وہ وقت ہے جب قانون ساز اداروں کو اس مسئلے کا موزوں حل تلاش کرنا چاہیے. کیونکہ اگر یہ منفی پرینکس کا سلسلہ یونہی جاری رہا تو ہم اپنی نوجوان نسل کے مستقبل کو روشن نہیں دیکھ سکیں گے کیونکہ ان فضولیات کی فہرست تو طول پکڑ رہی ہے ان میں راہ چلتے لوگوں کو تنگ کرنا بھی ہے, ہراساں کرنا بھی اور انتہائی نا مناسب سوال کرنا بھی.
پاکستانی قوم عموماً بین الاقوامی ٹرینڈز کے مطابق ہی سوشل میڈیا پر موجودگی کا اظہار کرتی ہے. اس صورتحال میں نہ صرف بھارت بلکہ بہت سے دوسرے ممالک اس فہرست میں شامل ہیں جو کہ معاشرے میں منفی پرینکس کی بڑی پیداوار کا سبب ہیں.
ایسے منفی ٹرینڈز نہ صرف اخلاقی اقدار کی پامالی کا سبب بنتے ہیں بلکہ معاشرتی نظام کو بھی برباد کرنے کا باعث ہیں.

کیا اس معاملے میں آپ کی تجویز کے مطابق قانون سازی کرنا نوجوان نسل کو نظر بند کرنے کے مترادف نہیں؟
اس سوال پر جناب عبدالحمٰن کا کہنا تھا کہ نہیں, قانون سازی کا اصل مقصد صحیح راستہ پیدا کرنا اور معیاری حدود کا تعین کرنا ہوتا ہے جن کی مدد سے سماجی اخلاقیات اور اقدار کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے.
اب اگر گن پرینکس کو زیرِ بحث لایا جائے تو چند واقعات ایسے ہم دیکھ چکے ہیں جب پرینک کے دوران فائر ہو گیا اور اموات واقع ہو گئیں. اس لیے اب قوانین اور حدود کا تعین نہایت ضروری ہے اس سے پہلے کہ ہماری نوجوان نسل اس شرارت میں اس حد تک بڑھ جائے کہ پورا معاشرہ اس آگ کی لپیٹ میں آ جائے.

کیا پرینکس کے صحت پر اثرات کو زیرِ غور لایا جانا چاہیے؟
اس سوال پر جناب عبدالرحمٰن قیصر کا کہنا تھا کہ مثبت پرینکس مثبت اثرات رکھتے ہیں جبکہ منفی پرینکس کی وجہ سے کئی مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے جن میں انسانی صحت کے مسائل بالخصوص نفسیاتی مسائل سرِفہرست ہیں.
حال ہی میں اک واقعہ نظر سے گزرا کہ اک خاتون کو گن پرینک کے دوران جس صورتحال کا سامنا کرنا پڑا اس کی وجہ سے وہ بیمار پڑ گئیں یعنی کہا جا سکتا ہے کہ ہمیں لوگوں کی نفسیات جیسا کہ کمزور دل یا جذباتی ہونا, حساس ہونا, جلد خوفزدہ ہونا جیسی صورتحال کو بھی پیشِ نظر رکھنا چاہیے.
اب بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ پرینک دراصل ایکٹنگ ہوتی ہے جس میں سکرین پر آنے والے تمام کردار پیش آنے والی صورتحال سے واقف ہوتے ہیں لیکن سکرین کی دوسری طرف موجود بہت سے لوگ ایسے ہو سکتے ہیں جو اس کو تجرباتی طور پر خود کرنا چاہیں گے, جس سے انہیں کافی نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے مگر وہ ان نقصانات سے آگاہ نہیں کیونکہ جو پرینک یا ویڈیو وہ دیکھ چکے ہیں اس میں ایسی کسی چیز پر روشنی نہیں ڈالی گئی نہ ہی وہ احتیاطی تدابیر منظر پر لائی گئیں جن کو برؤئے کار لایا گیا تھا.

جو نوجوان پرینک کرتے ہیں وہ حقیقتاً اپنی صلاحیتیوں کا اظہار کر رہے ہیں, لیکن اپنے ٹیلنٹ کا مثبت استعمال ان کے لیے کیسے ممکن ہے؟

یہ انتہائی اہم سوال ہے. یقیناً بہت سے بچے مثبت معاشرتی رویوں کی ترغیب دیتے ہیں جیسا کہ دوسروں کی مدد کرنا,کسی کی خوبیوں کو سراہنا, منفی رویوں کے خلاف برداشت پیدا کرنا اور مختلف معاشرتی مسائل کے متعلق آگاہی پیدا کرنا وغیرہ. لہٰذا یہ وہ موضوعات ہیں جو نہ صرف بحیثیت فرد آپ کے بلکہ دنیا بھر میں آپ کے ملک کا مثبت تشخص ابھارتے ہیں.
بحیثیتِ شہری احساسِ ذمہ داری کی اس وقت پاکستانی قوم کو اشد ضرورت ہے. اگر ہم سوشل میڈیا پرینک اور سکرین کے ذریعے اس احساس کو اپنی قوم میں بیدار کر دیں تو یہ بہت بڑی کامیابی ہو گی. پوری قوم کا شخصی اور سماجی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے انجام دینا انتہائی مثبت قدم ہو گا.
جب ہر شخص اپنے گھر, اپنے محلے,اپنے قصبے اور اپنے ملک کا خود خیال رکھے گا. جب پوری قوم ریاستی قوانین پر عمل پیرا ہوگی.
ہمارے بہت سے نوجوان عوام کو ان پہلوؤں کے متعلق اپنے سوشل میڈیا پرینکس, ویڈیوز اور براہِ راست شوز کے ذریعے آگاہی دے رہے ہیں.
نوجوانوں کے لیے بے شمار ایسے موضوعات ہیں جن پر سوچ و بچار ضروری امر ہے.

کیا اس سب کا تعلق ڈیجیٹل لٹریسی سے ہے؟اگر ہے تو یہ کس قدر ضروری ہے؟
ڈیجیٹل لٹریسی سے مراد ہے ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا کے درست استعمال کی تعلیم…
جیسا کہ سوشل میڈیا ایک اوپن پلیٹ فارم ہے جس کے ذریعے دنیا بھر سے اربوں لوگ ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں. اب اتنے بڑے پلیٹ فارم کے درست,مثبت اور معیاری استعمال کی تعلیم بھی اس قدر ضروری ہے. ضروری ہے کہ اس سے متعلقہ بنیادی اصطلاحات کی لوگوں کو تعلیم دی جائے تا کہ وہ اس کا درست استعمال کر سکیں.
پاکستان جیسا ملک جہاں فرقہ پرستی کا راج ہو, سیاسی نفرتوں کے بازار گرم ہوں, اس کے علاوہ صوبائیت پرست اور کثیر ثقافتی معاشرہ ہونے کی حیثیت سے آئے دن نت نئے اختلافات جنم لیتے ہوں ایسے میں سوشل میڈیا مخالف گروہوں کو نقصان پہنچانے کے لیے انتہائی آسان راہ دکھاتا ہے.
اس طرح کی صورتحال میں اس فورم پر موجود ہر شخص کے لیے ڈیجیٹل لٹریسی ضروری ہے تا کہ ہر کوئی ہر ممکن حد تک ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کے منفی اثرات اور استعمال سے خود کو محفوظ رکھ سکے.
اس کے بغیر ہر شخص کے لیے یہ جانچنا مشکل ہو گا کہ کونسی خبر کس حد تک حقائق پر مبنی ہے اور کوئی چیز ایک فرد, معاشرے اور ملک کے لیے فائدہ مند ہے یا نہیں.
جناب عبدالرحمٰن قیصر نے مزید کہا کہ موجودہ حالات کے پیشِ نظر میں یہ ضروری خیال کرتا ہوں کے ڈیجیٹل لٹریسی پروگرام کا آغاز سکولوں کی سطح سے ہی کروا دیا جائے.
بجائے اس کے کہ ہم مختلف ویب سائٹس کو اپنے ملک میں بلاک کریں یہ زیادہ بہتر ہو گا کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو یہ شعور دے جائیں کہ وہ کیسے مثبت استعمال سے اس دنیا میں اپنا مقام پیدا کر سکتی ہیں.
یہ واحد طریقہ ہے جس سے ہم اس کے نقصانات سے محفوظ رہ سکتے ہیں کیونکہ ابھی سوشل میڈیا کے دور کا آغاز ہے اور تقریباً آئندہ پچیس سال تک یہ اپنی ترقی کے مختلف ادوار سے گزرے گا.

Avatar

صحافی | اسلام آباد

اپنا تبصرہ بھیجیں