16 دسمبر ایک ایسا ہولناک دن ،کے پورے ملک کی بنیاد ہل گئی۔

16 دسمبر ایک ایسا ہولناک دن ،کے پورے ملک کی بنیاد ہل گئی۔کتنی ہی ماؤں سے انکے لخت جگر چھین لیے گئے۔اور جیسے ہے دسمبر قریب آتا ہے ان معصوم بچوں کی آہ و پکار ہماری سماعتوں سے ٹکراتی ہے اور انکے ابھرنے والے سوال ہر ایک کو خاموش کر دیتے ہے کہ آخر ہمارا قصور کیا تھا؟وہ معصوم بچے سوال کرتے ہے کہ چلتی بندوق کا بارود ہمارے جسموں میں کیوں اتارا گیا؟ہمارے زیب تن کیے ہوئے لباس خون آلود گھروں کو کیوں پہنچائے گئے؟ہمارے والدین کو تاعمر انتظار کی گھڑیاں کیوں دی گئی؟ آخر ہمارا قصور کیا تھا؟

چمن کے پھولوں کو اجاڑنے والے کون؟ ماؤں کے لخت جگر چھیننے والے کون؟تعلیمی مراکز کو نشانہ بنانے والے کون؟چمکتی آنکھوں سے خواب چھیننے والے کون؟کہکشاں کے ستاروں کو مدھم کرنے والے کون؟میری سرزمین پاکستان کی بنیاد ہلانے والے کون؟
کیا یہ وہی لوگ ہیں جنکو اشرف المخلوقات کہا جاتا ہیں؟
ہاں یہ وہی درندہ صفت انسان ہے جو بھیڑیے کی شکل اختیار کرگئے ہیں.یہ وقت کے چنگیز خان جو بے رحمی سے قتل عام کرتا تھا۔یہ وقت کے فرعون ہے جو اپنی طاقت کے نشے میں مست ہے۔لیکن وہ وقت دور نہیں کہ جب علم کا ہتھیار تھام کر باطل کے خلاف معرکہ آرائی ہوگی ۔جب ان وقت کے فرعونوں کا سرقلم کیا جائے گا ۔جب بندوق سے کیے گئے وار کو قلم سے روکا جائے گا۔جب پاکستان کا بچہ بچہ دشمن کے بچوں کو الف سے امن کا سبق پڑھائے گا ۔وہ وقت دور نہیں ہے جب ایسی ہولناک حرکتیں کرنے والے اپنے کیفر کردار تک پہنچے گے انشاء اللہ۔
آرمی پبلک سکول کے بچوں کا سوال
کیا تمہاری چلتی ہوئی بندوق کو خوف خدا نہیں؟
کیا تمہارے ضمیر کا تم سے کوئی سوال نہیں؟
کیا تم کسی کے لخت جگر نہیں؟
یا تمہارا کوئی لخت جگر نہیں؟
بختاور نور

Avatar

صحافی | اسلام آباد

اپنا تبصرہ بھیجیں