پاکستان: کرپٹو کرنسی مائننگ فارم قائم کرنے کا منصوبہ

عالمی سطح پر کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ پے پال جیسی بڑی بڑی کاروباری کمپنیاں اس مارکیٹ میں قدم جما رہی ہیں۔ اب پاکستان نے بھی اس میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے۔
نیوز ایجنسی کے مطابق پاکستانی صوبے خیبرپختونخوا کی حکومت دو ہائیڈرو الیکٹرک پاورڈ پائلٹ ‘مائننگ فارم‘ قائم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے تاکہ گلوبل کرپٹو کرنسی مارکیٹ سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے حوالے سے اس نئی پالیسی کا اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب دنیا بھر میں کرپٹو کرنسی کو مقبولیت حاصل ہو رہی ہے۔ ایک بٹ کوائن کی قیمت تقریبا ساٹھ ہزار ڈالر کو چھو رہی ہے جبکہ ایلن مسک جیسے دنیا کے امیر ترین افراد اس میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں یو ایس بینک اور مورگن اسٹینلے جیسے بڑے بڑے ادارے اپنے کلائنٹس کی رسائی بٹ کوائن تک ممکن بنا رہے ہیں۔

کرپٹو مائننگ فارمز کے لیے کمپیوٹر ڈیٹا سینٹرز اور سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ بجلی کی بڑی مقدار درکار ہوتی ہے۔

پاکستان کی نئی کرپٹو پالیسی

پاکستان نے کرپٹو کرنسی پالیسی تشکیل دینے کے لیے ایک وفاقی کمیٹی بنا رکھی ہے۔ پاکستان کی طرف سے کرپٹو فرینڈلی پالیسی کا اعلان ہمسایہ ملک بھارت کی پالیسی کے بالکل برعکس ہے، جس نے حال ہی میں کرپٹو کرنسی پر مکمل پابندی عائد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

بٹ کوائن مائننگ فارم

پاکستان میں دو پائلٹ مائننگ فارمز پر کتنی لاگت آئے گی، اس حوالے سے ابھی حتمی اعداد و شمار سامنے نہیں آئے۔ خیبرپختونخوا میں حکومتی مشیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی ضیاء اللہ بنگش گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ”لوگ سرمایہ کاری کے لیے پہلے ہی ہم سے رابطے کر رہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ خیبرپختونخوا میں آئیں۔ وہ بھی اس سے کمائی کریں گے اور یہ صوبہ بھی کمائے گا۔‘‘

کرپٹو کرنسی اور قانون

فی الحال پاکستان میں کرپٹو کرنسی کی ٹریڈنگ اور مائننگ لیگل گرے ایریا میں ہے۔ وفاقی حکام کو سرمایہ کاروں کے لیے اس شعبے کو باضابطہ طور پر کھولنے سے پہلے اسے قانونی حیثیت دینے کی طرف واضح راستہ فراہم کرنا ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں