کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز، سکول بند ہونگے یا نہیں؟ فیصلہ 10 مارچ کو ہوگا

ملک بھر میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کورونا وائرس پھیلنے کی شرح بلند دیکھی گئی ہے۔ اس صورتحال میں سکول کھلیں رہیں گے یا بند ہونگے، فیصل کل کیا جائے گا۔

یہ بات وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے دنیا نیوز کے پروگرام ‘’دنیا کامران خان کیساتھ’’ گفتگو کرتے ہوئے کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بروز بدھ مورخہ 10 مارچ سے ملک بھر کے معمر افراد کیلئے ویکسی نیشن کا عمل شروع کیا جا رہا ہے۔ امید ہے جلد از جل موجودہ صورتحال کو کنٹرول کر لیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ آج ملک میں کورونا کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کا اجلاس ہوا جس میں آئندہ کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔

پروگرام کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران پاکستان میں کورونا کے کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے تاہم ابھی صورتحال ویسی نہیں جیسی گزشتہ سال نومبر یا دسمبر میں تھی۔

شفقت محمود کا کہنا تھا کہ بدھ کے روز ہونے والے اجلاس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا جبکہ تعلیمی ادارے بند کرنے یا کھلے رکھنے کے حوالے سے بھی بات ہوگی۔ اجلاس میں تمام صوبوں کے وزرائے تعلیم شریک ہوں گے۔

دوسری جانب کورونا کیسز میں اضافے کے معاملے پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) اسلام آباد نے انتظامیہ کو خبردار کر دیا ہے۔ ان کی جانب سے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو لکھے گئے خط میں تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ کورونا کیسز میں تشویش ناک حد تک اضافہ سامنے آ رہا ہے۔

خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں اور دفاتر میں کورونا کیسز سب سے زیادہ سامنے آ رہے ہیں۔ کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 1 فیصد سے 6 فیصد سے زیادہ تک پہنچ گئی ہے۔

ڈی ایچ او نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ایمرجنسی بنیادوں پر کورونا کیسز کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے تجویز دی ہے کہ تعلیمی اداروں میں حاضری 50 فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا ہے کہ کلاسوں کو 4 گھنٹوں کی شفٹ میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ چھٹی والے دنوں میں بھی کلاسیں لی جا سکتی ہیں۔ کورونا کی تیسری لہر سے بچنے کے لئے یہ تمام انتظامات کرنا ناگزیر ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں