کیا عورت کو اپنی مرضی سے جینے کا حق نہیں؟۔۔۔رامین رعنا

جب بھی عورت کے حق کے حوالے سے بات کی جاتی ہے تو معاشرہ اس کے حق کی آواز کو دبا دینے کی کوشش کرتا ہے اور یہی ہی سب سے بڑے معاشرے کی منافقت ہے ۔ کہ عورت اپنی مرضی سے کچھ بھی نہیں کرسکتی نہ جی سکتی ہے نہ مر سکتی ہے اور نہ ہی اپنی زندگی کا کوئی فیصلہ کرسکتی ہے ۔
عورت ایک قوم کو بنانے میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتی ہے ۔ دنیا کی سب سے بڑی قوم اسلام کو دنیا میں پھلانے میں عورتوں کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ اسلام کو قبول کرنے والی بھی سب سے پہلے عورت ہی تھی اور اسلام کی راہ میں سب سے پہلے جان نثار کرنے والی بھی ایک عورت تھی۔ تو یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اسلام کو دنیا میں پھلانے میں عورتوں کی داستان لازوال ہے ۔عورت ہر روپ میں ہر قوم کو آگے بڑھنے میں اپنا کردار ادا کرتی ہے
پھر کیوں ہمارا معاشرہ عورت کہ ساتھ منافقت کرتا ہے؟
تو پھر کیوں معاشرے کے سارے برائیوں کی جڑ عورت کو ہی تصور کیا جاتا ہے؟
تو پھر کیوں ہر گناہ کو صرف عورت سے جوڑ دیا جاتا ہے ؟ آخر کیوں؟
اسلام میں تو عورت کو بہت اعلیٰ مقام دیا ہے تو پھر جب بھی آخرت کے عزاب کی بات کی جاتی ہے تو پھر عورت کو ہی سب گناہوں کا زمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ گناہ ہر ایک کرتا ہے لیکن ہمیشہ زیادہ تنقید اور الزام عورت کو ہی برداشت کرنی پڑتی ہے۔
کچھ لوگ شاید متفق نہ ہو کہ عورت کو تو سارے حقوق دے جاتے ہے پھر کیوں عورت ہمیشہ معاشرے کو تنقید کا نشانہ بناتی ہے ۔ کیوں ہر وقت عورت اپنے ساتھ منافقت کا رونہ روتی ہے ۔
ان سارے سوالوں کا جواب بھی ہے۔
پچپن سے نکل کر جب وہ تھوڑی سمجھدار ہونے لگتی ہے تو اسے ایک ہی بات سیکھائی جاتی ہے کہ بیٹا کبھی بھی گھر کی عزت پر آنچ نہ آنے دینا ۔ لیکن یہاں بھی ایک زیادتی ہوتی ہے بیٹی کو بیٹی کہہ کر نہیں سمجھایا جاتا بلکہ بیٹا کہہ کر سمجھایا جاتا ہے ۔ ہمیشہ پیار سے اگر بیٹی کو بلایا جاتاہے تو بیٹا کہہ کر مخاطب کرتے ہے ۔ آجکل ہر ایک کہ پاس موبائل ہے لیکن یہاں بھی افسوس معاشرہ منافق بن جاتا ہے . لڑکا ہو یا لڑکی دونوں کو برابر سمجھانا چاہیے کہ حد سے زیادہ اس کا استعمال غلط ہے کہ اگر بیٹی اور بیٹا ساتھ موبائل استعمال کرتے ہے تو ہمیشہ زیادہ بیٹی کو برا سمجھا جاتا ہے کہ اتنا موبائل کیوں استعمال کر رہی ہو ۔ کہی گھر سے باہر اگر لڑکی موبائل استعمال کر رہی ہوتی ہے تو سب کا ایک ہی خیال ہوتا ہے کہ لڑکی ہاتھ سے نکل گئی بگڑ گئی وغیرہ وغیرہ۔میں یہ نہیں کہتی کہ لڑکیوں کو بھی آزادی دے کہ وہ ہر وقت موبائل استعمال کریں لیکن اتنا سمجھتی ہو کہ بیٹی پر بھی اتنا بھروسہ کریں جتنا بیٹے پر اور دونوں کو ایک جیسے ہی سمجھنا چاہیے کہ گھر کی عزت پر کبھی بھی آنچ نہ آنے دینا اور نہ کبھی کسی کہ گھر کی عزت کو داغ دار کرنا ۔
اگر کسی یونیورسٹی میں داخلہ لے ،پہلے تو اجازت اتنی نہیں ہوتی اور جں کو ملتی ہے پھر وہ بھی محدود ۔ اگر ہم کبھی اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا چاہیے تو معاشرہ روکنے کیلئے ہر ہربہ استعمال کرتا ہے کہ نہیں عورت کو مرد سے آگے نہیں جانا بس پڑھو اور چپ کر کے گھر آو ۔لوگ کیا کہے گہ ۔ ۔۔۔!
خیر جو بھی کچھ میری طرح اپنی صلاحیتوں اور خوابوں کو دبا کر زندگی گزارنے لگتی ہے تو بہت کم آگے بڑھ جاتی ہے لیکن یہاں بھی معاشرے کہ ہزار الزامات اور باتیں سہتی ہے۔
بہت سے لوگ شاید اس بات سے بھی اختلاف کریں کہ عورت کو تو تعلیم کی آزادی ہے پھر ہم تعلیم کا رونہ کیوں روتے ہے۔ تو جناب میں جس علاقے میں رہتی میں اپنی ہی علاقے کی ایک تلخ حقیقت بتاتی چلو جو میں نے خود مشاہدہ کیا ہے وہ یہ کہ عورت کو تعلیم کی اجازت بہت مشکل سے ملتی ہے اگر مل جائے تو ایک ہی بات ہر وقت اس کہ کانو میں ڈالی جاتی ہے کہ “پڑھ کہ کیا کرنا ہے ویسے بھی تو پرآئے گھر جانا ہے۔”وہاں پر ہی سارے خواب پورے کرو ۔ تو اگر کسی وجہ سے ایک عورت شادی کر نے کہ بعد اپنا رشتہ نہ بچا سکیں اور طلاق لے کر گھر واپس آتی ہے ۔قصور اس کا ہو یا نہ ہو سارا الزام اسے ہی سہنا پرتا ہے ۔ معاشرہ اس کہ ساتھ ایسے رویہ اپناتا ہے کہ عورت ایک بار یہ ضرور سوچتی ہے کہ کیا واقعی میں ایک انسان ہی ہو؟ کیونکہ جس طرح ہمارا معاشرہ بیوہ اور ایک طلاق یافتہ عورت کے ساتھ کرتا ہے شاید ہی کہیں اور ایسا ہو ۔
پھر بھی لوگ کہتے ہیں عور تیں آزاد ہے لیکن شاید یہ لوگ نہیں جانتے کہ عورت کو کتنے مشکالات کا سامنا کرنا پڑھتا ہے کہ جب وہ جاب کرنے جاتی ۔ کتنی دفعہ وہ اپنے عزت پر باتیں سنتی ہے ۔ شاید ہی کوئی اور اس کا اندازہ لگا سکیں کہ عورت کیا کیا سہہ کر جاب کرتی ہے ۔ پھر یہاں بھی شاید کچھ لوگ یہ کہہ کہ عورتیں پھر پردہ کریں نہ تو جناب عرض کیا ہے کہ یہ معاشرہ پردہ کرنے والی عورت کو بھی نہیں چھوڑتا اسے بھی اپنی حوس زدہ نگاہوں سے شکار کرتا ہے ۔ میں خود پردہ کرتی ہو لیکن پھر بھی۔۔۔۔ !
ایک دفعہ نوبت یہاں تک آگئ کہ میرے پردے پر ہی سوال کیا کہ پردہ ایسا نہیں ہوتا ۔ پردہ میں رہنا ہے تو چپ کر کہ رہو زیادہ ہر چیز میں آگے نہ بڑھو ورنہ اچھا نہیں ہوگا میں نے بات نہ مانی اور بڑھتی چلی گئی لیکن افسوس کہ ساتھ کہ پھر عزیتیں دے کر مجھے روک ہی دیا ۔ اور میری طرح اور بھی بہت سی لڑکیاں ہوگی جو ہر جگہ کسی نہ کسی وجہ سے اپنے خوابوں کو معاشرے کہ ڈر اور رویہ سے جلا کر بیٹھی ہوگی
ہمارہ معاشرہ اتنا منافق ہے کہ اگر کوئی عورت کچھ اچھا کرنا چاہیے اپنی شناخت سے اپنے والدین کا نام روشن کرنا چاہیے تو اس کی شخصیت اور اس کی عزت پر عجیب قسم کہ سوالات اٹھانے لگتا ہے کہ جس سے بہت سے عورتیں معاشرے کہ ڈر سے چپ ہی بیٹھ جاتی ہے
یہ تو میں نے چند وہ باتیں کی جو کہ گھروں سے نکل کر عورتیں سہتی ہے
ان سب منافقات کو میں جب روز دیکھتی ہو تو ایک بات ضرور دماغ میں آتی ہے کیا واقعی ہم تعلیم یافتہ دور میں رہ رہے ہیں ؟ ہم ایک ترقی یافتہ دور میں جی رہے ہیں لیکن جب عورت کچھ اچھا کرنا چاہیں تو معاشرے کے بے باک اصول سامنے آجاتے ہیں پھر یہ کہنا بجا ہوگا کہ ہماری سوچ آج بھی وہی جاہلیت کے دور کی ہے کہ جہاں عورت کو معاشرہ تنگ نظر سے دیکھتا تھا اور اسے کمزور ہی سمجھتے تھے ۔
مرد چاہیے جو کریں ان کی عزت کو کچھ بھی نہیں ہوسکتا ۔ عورت کو سنبھل کر چلنا ہوگا کیونکہ عورت کی عزت کانچ جیسی ہے ایک دفعہ وہ ٹوٹ گئی پھر اس منافق معاشرے میں اس کا جینا حرام ہے
اب فیصلہ ان پہ ہے جو یہ کہتے ہیں عورت کو اس کا حق برابر کا ملتا ہے پھر ان سے ایک ہی سوال اور کہ یہ تو معاشرے کی منافقت پر صرف چند حقائق کو بیان کیا ہے اگر اپنے گھر میں ہی دیکھ لیں تو شاید بہتر سمجھ آجائی کہ عورت کو کتنا حق ملتا ہے کتنا نہیں ۔
وجود زن سے ہے تصویرکائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِدروں

اپنا تبصرہ بھیجیں