پاکستان کا نوجوان سائنسدان جسے ملک کی کسی یونیورسٹی نے ایک سال تک داخلہ نہ دیا

میٹرک اور ایف ایس سی میں کم نمبروں کی وجہ سے پاکستان کی یونیورسٹیوں میں ایک سال تک داخلے سے محروم رہنے والے ایبٹ آباد کے نوجوان طالب علم عمیر مسعود کو بین الاقوامی امریکی ادارے لیب روٹ نے ینگ سائنٹسٹ کا ایوارڈ دیا ہے۔

عمیر مسعود کو لیب روٹ نے یہ اعزاز دو الگ الگ سائنسی تحقیقات کرنے پر دیا ہے۔ یہ دو تحقیقاتی مقالے انھوں نے انٹرنیشنل کانفرنس آف مالیکیولر بیالوجی اینڈ بائیو کمیسٹری آسٹریلیا اور 13 ویں انٹرنشینل کانفرنس آف ٹشو اینڈ ری جنریٹو میڈیسن امریکہ میں پیش کیے تھے۔

عمیر مسعود کامسیٹس یونیورسٹی ایبٹ آباد میں بائیو ٹیکنالوجی کے چوتھے سمیسٹر کے طالب علم ہیں۔ وہ دو بھائی ہیں اور ان کے والد ریسٹورنٹ کے کاروبار سے منسلک ہیں۔

عمیر مسعود کی تحقیق میں کیا ہے؟

عمیر مسعود نے اپنی ایک نئی تحقیق میں بتایا ہے کہ موروثی بیماریوں کے شکار افراد کے مرض کا جلد اور سستے طریقے سے پتا چلایا جا سکتا ہے۔ جس سے ان افراد کو بیماریوں میں جلد مدد فراہم کی جاسکتی ہے۔ ان کا تحقیقی مقالہ جس کا عنوان ’میوٹیشن ڈیٹیکشن کریسپا کیس 9 وایا مائیکرو فلیوڈ چپ،‘ یوروپین جنرل آف ایکسپیرمنٹل بیالوجی جریدے میں شائع ہوا ہے۔

عمیر مسعود کی دوسری تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ’کسی بھی جاندار کے جین حاصل کر کے کسی دوسرے کو منتقل کیے جا سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف موروثی بیماریوں کے علاج میں مدد کے علاوہ دیگر بیماریوں کا علاج بھی ممکن ہے۔ اس سے مختلف صلاحیتیں بھی ایک دوسرے میں منتقل ہو سکتی ہیں۔ بلکہ زراعت اور باغبانی میں غیر موسمی پھولوں اور سبزیوں کو بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔‘

ان کا یہ تحقیقی مقالہ ’انوینٹرو سائیڈ سپیکف ڈی این اے ایڈیٹنگ وایا ریسٹریکشن‘ کے عنوان سے رائل سوسائٹی آف سائنس جریدے نے شائع کیا ہے۔

عمیر مسعود نے بتایا کہ آسٹریلیا میں منعقدہ کانفرنس میں 121 ممالک کے طالب علموں، پروفیسروں، پی ایچ ڈی ڈاکٹروں اور سائنسدانوں نے شرکت کی تھی اور ان تمام میں وہ واحد پاکستانی تھے۔

عمیر مسعود کے مطابق ’اس کانفرنس کے دوران میرے مقالے پر کئی پروفیسرز، سائنسدانوں نے خود سے فوراً عملی تجربات کر کے میرے تحقیقی مقالے کے حق میں اعلانات کیے۔ یہ ہی نہیں بلکہ مجھ سے دو گھنٹے سے زائد وقت تک مختلف سوالات بھی پوچھے گئے تھے۔‘

عمیر کا کہنا تھا کہ ’اس موقعے پر انھوں نے مجھ سے کہا کہ آپ نے اپنی تحقیق کا کامیابی سے شاندار دفاع کیا ہے۔ اب ہم کھڑے ہوں گے اور پاکستان کا قومی ترانہ بجایا جائے گا۔‘

’مجھے سوال کرنا اور اس کے جواب تلاش کرنا اچھا لگتا‘ عمیر مسعود

عمیر مسعود کا کہنا تھا کہ مجھے بچپن ہی سے یاد کرنا، کتابیں دیکھ کر پڑھنا اچھا نہیں لگتا تھا بلکہ مجھے سوال کرنا اور جب جواب نہ ملے تو ان سوالات کے جوابات تلاش کرنا اچھا لگتا ہے۔ شاید یہ ہی وجہ ہے کہ کتابوں اور پڑھائی میں میرا دل نہیں لگتا تھا۔

عمیر مسعود کے ماموں محمد ریاض کا کہنا تھا کہ ’عمیر اپنی پیدائش ہی سے مختلف مسائل اور موروثی بیماری کا شکار تھا۔ اب بھی اس کا چھوٹا بھائی اس سے بڑا لگتا ہے۔ بچپن میں اس کی پرورش اس کی ماں اور دادی نے بڑی محنت سے کی تھی۔ کھیل کود تو زیادہ کر نہیں سکتا تھا مگر پڑھائی میں بھی اچھا نہیں تھا۔ کچھ بھی یاد نہیں کرتا تھا۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ’بچپن میں عمیر کو پڑھانے کے لیے بٹھائیں تو سوال کرنے لگا جاتا تھا۔ یاد کرنے کا کہوں تو کئی کئی گھنٹے یاد ہی نہیں کرتا تھا۔ مگر جب سوال کرتا تھا تو بڑے بڑے دنگ رہ جاتے تھے کہ اس کے دماغ میں یہ سوال کہاں سے آیا اور کیسے آیا۔‘

محمد ریاض کا کہنا تھا کہ ’اسی ماحول میں اس نے میٹرک اور ایف ایس سی کا امتحان پاس کیا اور دونوں امتحانوں میں اس کے نمبر اتنے اچھے نہیں تھے۔ مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ عمیر غیر معمولی طور پر ذہین ہے بس اس کی ذہانت کو صحیح راستے پر لانے کی ضرورت ہے۔ اس لیے اکثر اس سے بات کرتا تھا۔ عمیر بیالوجی کے مضمون میں دلچسپی لیتا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ایف ایس سی کے بعد کوشش کے باوجود اس کا اپنے پسندیدہ مضمون بائیو ٹیکنالوجی میں کسی بھی یونیورسٹی میں داخلہ نہیں ہو رہا تھا۔ ہر جگہ میرٹ زیادہ اور عمیر کے نمبر کم تھے۔ ایسے میں سیلف فنانس پر یونیورسٹیاں جو فیس مانگ رہی تھیں وہ اس کے والد اور ہم سب مل کر بھی نہیں دے سکتے تھے۔ جس وجہ سے اس کا ایک سال ضائع بھی ہوا تھا۔‘

محمد ریاض کا کہنا تھا کہ ’عمیر اس وقت بہت مایوس تھا۔ اس مایوسی کے وقت میں سارا خاندان ان کی مدد کو پہنچا، میری عمیر سے طویل بات ہوئی جس کا اختتام اس پر ہوا کہ یہ دنیا عملی کام کی دنیا ہے۔ اس میں ڈگری ضروری نہیں اگر کام آتا ہے اور ذہانت ہے تو پھر ساری دنیا کو فتح کیا جا سکتا ہے۔‘

داخلہ نہ ملنے والا ایک سال بہت قیمتی تھا

عمیر مسعود کا کہنا تھا کہ ’جب مجھے پتا چل گیا کہ مجھے کوئی یونیورسٹی بائیو ٹیکنالوجی میں داخلہ دینے کو تیار نہیں ہے تو اپنے ماموں کے مشورے سے انٹرنیٹ کا رخ کر لیا جہاں یورپ اور امریکہ کی درجنوں ایسی یونیورسٹی اور ادارے تھے جو دو، دو تین تین ماہ کے مفت شارٹ کورسز کرواتے تھے۔ ان کورسز کے لیے وہ مجھ سے میرے نمبر، میرے تعلیمی سال نہیں پوچھتے تھے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’انٹرنیٹ پر فارم بھر کر بھیجتا، وہ ایک دو سوالات کے جوابات مانگتے، کبھی کوئی ویڈیو کال کے ذریعے مختصر سی بات کر لیتے ورنہ اس کی بھی ضرورت نہیں پڑتی اور مجھے کورس کے لیے منتخب کر لیتے تھے۔‘

عمیر مسعود کا کہنا تھا کہ وہ اس طرح کے کئی شارٹ کورسز اور ان کے اختتام پر ملنے والی اسائمنٹ کامیابی سے کرتے تھے، ’جس پر وہ نہ صرف میری تعریف کرتے بلکہ مجھے سرٹیفکیٹ بھی دیتے تھے۔‘

’ان کورسز اور اسائمنٹ کی بدولت مجھ پر میری پسندیدہ تحقیق کی دنیا کھل گئی تھی اور میں اس میں مگن ہوگیا تھا۔‘

محمد ریاض کا کہنا تھا کہ ایک سال بعد عمیر کا کامیسٹس یونیورسٹی میں داخلہ ممکن ہوا۔ جس کی بھاری فیس ادا کرنا پڑی۔

تجربات پر لاکھوں روپیہ خرچ کرچکا ہوں

عمیر مسعود کا کہنا تھا کہ ’اب میں کامسیٹس یونیورسٹی ایبٹ آباد میں بائیوٹیکنالوجی کے چوتھے سیمسٹر میں ہوں اور سکول و کالج کی طرح میرے نمبر کم نہیں آتے بلکہ اب میں ٹاپ پر ہوں۔‘

انھوں نے بتایا کہ یونیورسٹی میں ابھی وہ جس سیمسٹر میں زیر تعلیم ہیں وہاں طالب علموں کو لیبارٹری استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

’جس وجہ سے تحقیق کے لیے میں نے گھر ہی میں اپنی لیبارٹری بنا لی ہے۔ اس تحقیق پر پیسے مجھے میرے خاندان والے فراہم کرتے ہیں، اب تک تحقیق اور مقالوں پر لاکھوں روپے خرچ کر چکا ہوں۔‘

ان کا کہنا تھا یورپ اور امریکہ کی یونیورسٹیوں سے شارٹ کورسز اور ان کے اسائنمنٹ مکمل کرنے کے بعد مجھے بنیادی علم حاصل ہو چکا تھا۔ جس وجہ سے میں تحقیق کے کام میں لگ گیا تھا۔

عمیر معسود کا کہنا تھا کہ ان کے دو تحقیقی مقالوں کو تو شہرت ملی ہے جبکہ اس کے علاوہ بھی ان کے مختلف مقالے بین الاقوامی فورمز پر شائع ہوئے ہیں۔

’جب میں اپنے ان دو شہرت یافتہ کامیاب مقالوں پر تحقیق کررہا تھا تو پاگلوں کی طرح کام کرتا تھا۔ مجھے دن اور رات کا کوئی ہوش نہیں ہوتا تھا۔ اس کے لیے میں نے سینکڑوں کتابیں کھنگال ماری تھیں۔ دنیا بھر کے درجنوں پروفیسرز اور سائنسدانوں سے رہنمائی حاصل کی۔ درجنوں ناکام تجربات کرنے کے بعد مجھے کامیابی ملی تھی۔‘

”پاکستان پہلی ترجیح مگر مواقع کے انتظار میں ہوں”

عمیر مسعود کا کہنا تھا کہ ’میری پہلی خواہش تھی کہ میرے مقالے پاکستان میں شائع ہوتے۔ میں نے یہ پاکستان کے تقریباً ہر ادارے کو بھیجے تھے مگر مجھے کسی نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ جب انھوں نے اپنے تحقیقی مقالے بین الاقوامی اداروں کو بھیجے تو ’انھوں نے مجھ سے یہ نہیں پوچھا کہ میڑک اور ایف ایس سی میں کتنے نمبر ہیں۔ کس سکول، اور یونیورسٹی میں پڑھتے ہو، انھوں نے مجھ سے سادہ سے الفاظ میں پوچھا کہ کیا میں اس کا دفاع کر سکتا ہوں اور اس کے لیے تیار ہوں۔ میرے ہاں کے جواب پر انھوں نے مجھے کانفرنس میں مدعو کیا تھا۔‘

عمیر اپنے یونیورسٹی اساتذہ کے ہمراہ

عمیر مسعود کا کہنا تھاکہ مستقبل میں وہ پی ایچ ڈی کر کے تحقیق کے کام سے جڑے رہنا چاہتے ہیں۔ ’اس وقت میں کینسر پر کچھ تحقیق کر رہا ہوں۔ جس میں بھی مجھے امید ہے کہ جلد کامیابی مل جائے گئی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ دو بین الاقوامی کمپنیوں نے مل کر کام کرنے اور کچھ یونیورسٹیوں نے داخلے کی بھی دعوت دی ہے جو انھوں نے شکریہ کے ساتھ مسترد کر دی۔

’میری خواہش ہے کہ میری دونوں تحقیقاتی پراڈکٹ پر میڈ ان پاکستان کا ٹیگ لگے۔ اب میں اس انتظار میں ہوں کہ کب مجھے اس کا موقع ملتا ہے۔‘

اپنا تبصرہ بھیجیں