جمہوریت بقول غامدی اور ہم۔۔۔حسان علی

“موجودہ دور میں جمہوریت ہی وہ نظام حکومت ہے جو اسلام کے اصولوں سے مطابقت رکھتا ہے ۔ قرآن میں ایک ہی سیاسی اصول بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے معاملات باہمی مشاورت سے حل کرتے ہیں ۔ باہمی مشورے کی صورت میں آج پارلیمنٹ قائم ہے۔ جس میں ہر طبقہ اپنے نمائندوں کے ذریعے اپنی اہمیت اور رائے رکھتا ہے۔ اور کسی بھی بڑے فیصلے سے پہلے پارلیمنٹ کا سیشن ہوتا اور مجموعی فیصلہ کرنے کے بعد وہ قانون و ضوابط لاگو ہو جاتے ہیں ۔ اِسی طرح لوگ مجموعی طور پر اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں وہ نمائندہ جو پارلیمنٹ کا رکن ہوتے ہیں وہ لوگوں کی باہمی رائے(ووٹ) سے منتخب ہو کر آتے ہیں۔ کوئی بندوق کے زور پر اقتدار حاصل نہیں کر سکتا نہ ہی اسلام نے کسی خاص طبقے کو اقتدار کا حق دے رکھا ہے بلکہ یہ تو لوگوں پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ اپنے باہمی مشورے سے اپنے معاملات کو حل کریں ۔

اسلام کبھی بھی یہ نہیں کہتا کہ آپ اقتدار کے لئے گروہ بنائیں تلواریں اٹھا لیں اور لاشیں گراتے جائیں جس کو آج انقلاب کا نام دیا ہے ۔ اسلام تو اپنے اصول بتا رہا ہے جس کے مطابق خلفائے راشدین اقتدار تک پہنچے ۔ لوگوں کے باہمی مشورے سے خلیفہ وقت کا انتخاب ہوتا تھا ۔ اب آج کے دور میں الیکشن ہوتے ہیں یہ صرف تمدنی ارتقاء ہے ۔ اُس دور میں الیکشن ہونا شاید ممکن نہیں تھا اِس لئے قبائلی روایات کے مطابق فیصلے ہوتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ کہا کرتے تھے کہ مسلمانوں کی حکومت اُن کے مشورے سے قائم ہو گی اور قائم رہے گی۔

آب یہاں پر لوگ خلافت کی بات کرتے ہیں کہ اسلام کا اصل نظام تو خلافت ہے۔ یہاں بھی بات سمجھنے والی ہے کہ خلافت کوئی نظام نہیں ہے ۔ عربی کا ایک لفظ ہے جس کا مطلب “جانشین” ” نائب اور صاحب اقتدار” کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ آب سوال یہ ہوتا ہے کہ انبیاء کے جانشین تو علماء کرام ہیں پھر حکومت مولویوں کو کیوں نہیں دی جاتی؟ تو اِس کا جواب یہ ہے کہ انبیاء کی وراثت دو طریقوں سے منتقل ہوتی ہے۔ علماء کے بارے میں بتا دیا ہے کہ وہ لوگوں کو خبر دار کریں اِس لئے انبیاء کی علمی وراثت ظاہری بات ہے علماء کو منتقل ہو گی لیکن اگر کسی نبی نے اقتدار قائم کیا ہے تو اُس صورت میں یقیناً “باہمی مشاورت” کا اصول لاگو گا۔ اگر آپ یہاں بھی وراثت کا حق علماء کو دے دیں گے تو پاپائیت قائم ہو جائے گی ۔ خلافت کا لفظ ابوبکر کے دور سے شروع ہوا لوگوں نے انہیں نبی کریم کا جانشین کہا اور پھر حضرت عمر کو بھی اِسی طرح کہ یہ نبی کریم کے جانشین کے جانشین ہیں۔ بعد میں حضرت عمر نے اِس لفظ کو ختم کر کے صاحب اقتدار کے لئے “امیر المومنین” کا لفظ استعمال کرنا شروع کیا جو آج کے دور میں آپ صدر، وزیراعظم کہتے ہیں یہ بھی زمانے کا ارتقاء ہے.

یہ کہنا بھی غلط ہے کہ یہ جمہوریت انگریزوں کا نظام ہے ۔ دیکھیں اصول وہی اسلام کا دیا ہوا ہے انگریزوں نے اُن اصولوں کو سامنے رکھ کر جو دین نے دیئے ارادے بنا لئے۔ جس طرح باقی علوم میں ترقی ہوئی اِسی طرح اِس نظام میں بھی ترقی ہوئی ۔بلکل اِسی طرح جس طرح پرنٹنگ پریس، لاؤڈ اسپیکر اور کیمرہ، ٹیلی ویژن ہم نے پہلے پہل تسلیم نہیں کئے لیکن بعد میں ماننا پڑا۔ اِسی طرح جمہوریت کو بھی موجودہ دور کا بہترین نظام مان لیں آگے چل کر کوئی اور نظام بھی آ جائے لیکن اصول “باہمی مشاورت” کا ہی ہونا چاہئے کیونکہ اسلام کا یہی طریقہ ہے ۔ آب آپ دیکھیں کہ خلافت میں خلیفہ وقت کی بات مانی جاتی تھی مکمل پیروی ہوتی تھی آج ہم قوانین کا نفاذ اور احترام کر کے اُسی اصول کی پیروی کرتے ہیں اور پھر خلافت میں بیت ہوا کرتی تھی خلیفہ وقت کی بیت کی جاتی تھی ۔ آج کے دور میں حلف اٹھا لیا جاتا ہے یہ بھی ارتقاء کا نتیجہ ہے ایک نیا طریقہ بن گیا ہے۔ ورنہ پیروی تو اُسی اصول کی ہو رہی ہے ۔ اب آپ کہیں گے کہ بیت تو خلیفہ وقت ‘کی’ کی جاتی تھی لیکن یہاں آج کے دور میں تو حلف قانون کا لیا جاتا ہے ۔ یہاں بھی یہ بات سمجھنے والی ہے کہ خلیفہ کی بیت اِس صورت میں کی جاتی تھی کہ جو احکامات قرآن اور سنت کے مطابق ہوں گے انہیں مانا جائے گا۔ وہ بیت خلیفہ کی ذات کی نہیں بلکہ قران اور سنت کے مطابق اُن اصولوں کی ہوتی تھی جو خلیفہ کی جانب سے دیئے جانے ہوتے ہیں ۔

یہ الیکشن، پارلیمنٹ، پارٹیاں یہ سب زمانے کے اِرتقاء کی صورت میں وجود میں آئے ہیں اِن کے قائم ہونے کی بنیادیں وہی ہیں جو اسلام نے بیان کیں ۔ باقی یہ تنقید کہ اسلام میں کوئی خود کو اقتدار کے لئے پیش نہیں کرتا کیونکہ مسلمان کو اقتدار کا لالچ نہیں رکھنا چاہیے۔ دیکھیں لالچ اورحوس ایک مختلف چیز ہے اور خود کو اقتدار کے لئے پیش کرنا ایک مختلف عمل ہے۔ جس طرح حضرت یوسف نے خود کو اقتدار کے لئے پیش کیا کیونکہ وہ خود کو اہل سمجھتے تھے ۔ اِس میں کوئی برائی نہیں کہ کوئی خود کو اہل سمجھتے ہوئے اقتدار کے لئے پیش کر دے لیکن ہاں اقتدار کا لالچ اور اُس کی حوس نہیں رکھنی چاہئے ۔ باقی جمہوریت میں خرابیاں موجود ہیں ۔ جو ہر نظام میں کہیں نہ کہیں موجود ہوتی ہیں انہیں ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ نظام کو تبدیل کرنا مسائل کا حل نہیں ہے ۔”

غامدی صاحب کا نقطہ نظر بڑا واضح ہے، کہ جمہوریت ہی وہ نظام ہے جس میں بنیادی اصول اسلام سے مطابقت رکھتے ہیں ۔ غلطیاں اور خامیاں ہیں انہیں دور کر لیں تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اب ہم اپنا حال دیکھتے ہیں کہ ہم باہمی مشاورت سے جو بھی فیصلے کرتے ہیں وہ ہمیشہ ہی باہمی دھاندلی سے وجود میں آتے ہیں جو نہ اسلام کا اصول ہے اور نا ہی جمہوریت کا اصول ہے ۔ قانون کی بالادستی اور حکمرانی کو ہم نے اہمیت تو بہت دی ہوئی ہے لیکن عمل درآمد کے اصولوں سے یکسر مختلف صورت حال سامنے آتی ہے کہ ہم تو ٹریفک کے لال سگنل پر رکنا بھی اپنی توہین سمجھتے ہیں ۔ہم ووٹ کو نہیں ووٹ کے پیچھے چھپی اُس سوچ کو عزت دیتے ہیں جس کا اختتام تصادم پر ہوتا ہے ۔ جس سوچ کی بنیاد غلامی ہے۔جس سوچ میں علم اور عقل کی کمی ہے وہ شعور سے نا آشنا ہے۔ وہ باہمی فیصلوں میں ٹرینڈ کو دیکھتی ہے ۔ اِسی سوچ نے آج پاکستان کو بربادی کی سرحدوں کے پار دھکیل دیا ہے ۔ ہم اصل جمہوری حکومت میں نہیں جعلی جمہوری حکومت میں جی رہے ہیں ۔ نظام پوری دنیا میں کامیاب ہے ۔ صرف ہمارے ہاں ہی اِسے ناکامی کا سامنا ہے اور یہ ناکامی ہمیں جمہوریت سے بے زار کر رہی ہے ۔ نظام سے تنگ ہماری قوم بندوق کو اقتدار دینے کی قائل ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ بندوق کا نظام قائم ہو جس نے اسلام نے کبھی حمایت کی نہ ہی دنیا نے کبھی ایسے نظام کی تعریف کی ہے ۔ ہماری علماء برادری بھی انقلاب کی قائل ہے جس کی بنیاد قتل و غارت سے پڑتی ہے ۔ اقتدار کو ہر طبقہ اپنا حق سمجھتا ہے ۔ آج دنیا قومی ممالک میں بٹ چکی ہیں۔ آج وہ حالات نہیں کے آپ دنگا فساد کر کے اقتدار حاصل کر لیں دنیا نئے اصول اپنا چکی ہے ۔ ہمیں بھی نئے اصولوں کے مطابق چلنا ہے اگر حکمران اچھے نہیں مل رہے تو اِس میں حکمرانوں کا کوئی قصور نہیں ہے منتخب کرنے والی عوام کو ٹھیک کر لیں اچھے حکمران ملنا شروع ہو جائیں گے حسن صاحب کے جملے پر ختم کرتے ہیں کہتے ہیں کہ ” ریڑھی اور چھابڑی والا فٹ پاتھ کی زمین پر قبضہ کر کے بچوں کو حرام کھلا رہا ہے وہ کیوں نہ اِن بڑے قبضہ مافیا کو ووٹ دے کیونکہ وہ خود ایک چھوٹا قبضہ گروپ ہے” یہی حال ہم سب کا ہے ہر طبقے میں، ہر مافیا کی یہی کہانی ہے ۔ نظام خود برا نہیں ہوتا لوگ بنا دیتے ہیں ۔ ملوکیت سے نکلیں اور جمہوریت (خلافت) کی طرف سفر شروع کریں۔

حسان علی

حسان علی نوجوان لکھاری ہیں۔ حسان علی زیادہ تر حالات حاضرہ پر کالمز لکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ طنزو مزاح اور تاریخی امور پہ بھی قلم اٹھاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں