پائی نیٹ ورک، آن لائن کمائی اور فراڈ

آج کل PI Network کا بڑا چرچا ہے اور بہت سے دوست مجھے اپنا ریفرل لنک بھی بھیج چکے ہیں۔ انٹرنیٹ سے جڑے کاروبار سے منسلک ہونے کی وجہ سے آپ کو اس ویب سائٹ کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنا میرا فرض بنتا ہے، تاکہ آپ فیصلہ کرتے ہوئے اچھی طرح جان لیں کہ آپ کیا کر رہے ہیں۔ اب آئیے ذرا پائی نیٹ ورک کا جائزہ لیتے ہیں۔

پائی نیٹ ورک میں کسی افادیت کا تبادلہ نہیں
ہر کاروبار یا کسی بھی معاشی سرگرمی میں افادیت یا value کا تبادلہ لازمی ہوتا ہے۔ پائی ایپ نیٹ ورک صارفین کو سوائے نفسیاتی طمانیت کے کسی قسم کی کوئی value مہیا نہیں کرتی۔ پائی نیٹ ورک کبھی مستقبل بعید میں ملنے والے فائدے کی بنیاد اور وعدے پر نئے صارفین اکٹھے کررہا ہے۔

ایپ استمال کرنے والے سمجھتے ہیں کہ وہ کچھ انویسٹ نہیں کررہے۔ جبکہ وہ اپنا قیمتی وقت انویسٹ ضرور کرتے ہیں۔ صارفین بھی کسی خاص افادیت میں اضافہ نہیں کرتے کہ ان کو کوئی فائدہ ملے۔ ہاں لیکن وہ ذاتی معلومات ضرور دیتے ہیں جو کمپنی کے مالکوں کےلیے ضرور سودمند ہوگی۔ یعنی اگر مستقبل میں کسی کو کوئی فائدہ ہوگا تو پائی نیٹ ورک کے مالکان کو ہوگا۔

پائی نیٹ ورک کا کوئی کرپٹو نظام نہیں

پائی نیٹ ورک اپنے آپ کو ایک بلاک چین یا کرپٹو کرنسی کمپنی بتاتی ہے یا اس سے متا جلتا بتاتی ہے۔ جبکہ ہر بلاک چین اور کرپٹو کمپنی کا اپنا ایک کوڈنگ نظام ہوتا ہے، جسے وہ اوپن سورس کرتے ہیں۔ اوپن سورس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی جو ٹیکنالوجی اور کوڈز سمجھتا ہے، وہ آسانی سے دیکھ سکتا ہے کہ اندر ہو کیا رہا ہے اور کس بنیاد پر یہ بزنس کھڑا ہے۔

پائی نیٹ ورک کا کوئی کوڈ اوپن سورس نہیں۔ آپ چاہے ٹیکنالوجی کو جتنا جانتے ہوں، آپ نہیں جان سکتے کہ یہ بزنس کس بنیاد پر کھڑا ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ کوئی بزنس ہو ہی نہیں رہا۔ عام صارفین کےلیے اس کا کیا مطلب ہے کہ پائی نیٹ ورک کا کوئی بلاک چین یا کرپٹو نظام نہیں ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ کمپنی ایک ایسی کرنسی کی بات کررہی ہے جو موجود ہی نہیں ہے۔ ایسا پہلے بھی OneCoin نامی کمپنی کرچکی ہے۔

جی ہاں! OneCoin اور OneLife Network کمپنی بھی پائی نیٹ ورک کی طرح کام کرتی تھی۔ یہ کمپنی اپنا تعلق پائی نیٹ ورک کی طرح کرپٹو کرنسی سے جوڑتی تھی۔ ایسی کرپٹو کرنسی جس کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ لیکن ہمیں یا تفتیش کرنے والے اداروں کو یہ بات پتہ کیسے چلی؟ دراصل کرپٹو نظام نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں علم ہوا۔ اور اخبار ’’دی ٹائمز‘‘ نے اسے ’’تاریخ کا سب سے بڑا دھوکا‘‘ کہا تھا۔

پائی نیٹ ورک کیسے کام کرتا ہے؟

ایپ روزانہ کھولیے، ڈیجیٹل کرنسی حاصل کرنے کےلیے ایک بٹن پر کلک کیجیے۔ بس، کام ختم۔ اور اس بنیاد پر کبھی نہ کبھی آپ پیسے کمانا شروع کردیں گے۔ اگر آپ اپنا لیول بڑھانا چاہتے ہیں تو لوگوں کو پائی نیٹ ورک میں شرکت کی دعوت دیجیے۔ اور ایسا کرنے سے آپ کو مزید ڈیجیٹل کرنسی ملنا شروع ہوجائے گی۔

پائی نیٹ ورک کے مختلف صارفین کے کام

اس وقت پائی صارفین چار اقسام کے ہیں۔

1۔ پائنیر: اس کا کام روزانہ یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ روبوٹ نہیں ہے۔ اس کےلیے صارف کو ایپ میں موجود بٹن پر کلک کرنا ہے۔

2۔ کنٹری بیوٹر: دراصل ایسے پائنیر صارفین کی لسٹ مہیا کرتا ہے جن پر وہ اعتماد کرتا ہے۔
3۔ ایمبیسیڈر: دوسرے لوگوں کو پائی نیٹ ورک متعارف کرواتا ہے۔

4۔ نوڈ: ایسا پائنیر اور کنٹری بیوٹر ہوتا ہے جو پائی نوڈ سافٹ ویئر اپنے کمپیوٹر پر چلاتا ہے۔

اور ایسا سب کرنے والوں کو روزانہ Pi کرنسی ملتی ہے۔ میں نے پائی نیٹ ورک کے لنکڈ اِن پیج کا جائزہ لیا۔ اور کمپنی ملازمین سے بات کرنے کی کوشش کی۔ کئی لوگوں نے جواب نہیں دیے۔ اور باقی ایپ کے استعمال کرنے والے نکلے۔ یعنی کمپنی ملازمین ہیں ہی نہیں۔

پھر بھی مسئلہ کہاں آرہا ہے؟
سوالات کیا ہیں؟
سوال یہ ہے کہ ڈیجیٹل کرنسی کہاں ہے؟ اس کے وجود کو ثابت کرنے کےلیے جو کوڈنگ نظام ہے، وہ کہاں ہے؟ اور کب تک آپ اپنی پائی کرنسی کو روپوں یا ڈالرز میں تبدیل کرسکتے ہیں؟ ہم کب دیکھیں گے ک پائی نیٹ ورک حقیقی دنیا میں تجارت کررہا ہے؟
ان سوالات کا جواب دینا پاکستانی سادہ لوح معاشرے کو شاید آسان ہو۔ لیکن یقین جانیے ثبوت کے ساتھ جواب دینا ناممکن ہے۔ کیوں؟ کیوں کہ ایسی کوئی ڈیجیٹل کرنسی موجود ہی نہیں۔

پائی نیٹ ورک کیا کہتا ہے؟

پائی نیٹ ورک نے اپنی آفیشل ویب سائٹ پر ایک وائٹ پیپر شایع کیا ہے تاکہ وہ اپنے بارے میں دنیا کو بتاسکیں۔ پہلی بات تو یہ کہ پائی نیٹ ورک نے آج تک نہیں بتایا کہ وہ ڈیجیٹل کرنسی کب لانچ کریں گے۔ گزشتہ سال کے مارچ سے اب تک صارفین صرف انتظار کررہے ہیں۔ وائٹ پیپر بتاتا ہے کہ ’’جب کمیونٹی کو لگے گا کہ ان کا سافٹ ویئر تیار ہے تو ہم پائی نیٹ ورک کی کرنسی لانچ کردیں گے‘‘۔

’’کردیں گے‘‘ سے مراد یہ ہے کہ اب تک کچھ ایسا نہیں جس پر آپ اعتماد کرسکیں۔ وائٹ پیپر آپ گوگل پر سرچ کرکے خود بھی پڑھ سکتے ہیں۔ لیکن یہ معلومات تو ان کی سائٹ پر موجود ہیں۔ صارفین کو بس اتنا پتہ ہے کہ کمپنی کے مالک ’’پی ایچ ڈی‘‘ ہیں۔ لیکن کیا اس سے فرق پڑتا ہے؟

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

آپ کو پائی نیٹ ورک سے دور بھاگنا چاہیے۔ لیکن اگر آپ پہلے ہی ایپ کے استعمال کرنے والے ہیں تو آپ کو یہ بہت مشکل لگے گا۔ ایسے میں میرے تحفظات اور سوالات کے جواب دینے میں وقت صرف کریں۔ اور اگر کچھ کہنے کو نہ ملے تو میرے دوست کی طرح ’’دیکھتے ہیں‘‘ مت کہیے گا۔

تحریر: عبد الرؤف،
بشکریہ ایکسپریس

اپنا تبصرہ بھیجیں