کے ٹو حادثے پر اٹھنے والے جواب طلب سوالات

کے ٹو پر حالیہ دنوں ہونے والے مبینہ حادثے میں بین الاقوامی شہرت یافتہ پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ سمیت دو غیر ملکی کوہ پیما جان کی بازی ہار گئے۔

تقریباً دس روز جاری رہنے والے سرچ آپریشن کے بعد باظابطہ طور پر پریس کانفرنس کرکے کوہ پیماؤں کی موت کی تصدیق کی گئی۔

5 فروری کو لاپتا ہونے والے کوہ پیما کس حادثے سے دوچار ہوئےاور ان پر کیا گزری ، اس بارے میں یقیناً کوئی بھی حتمی طور پر کچھ نہیں بتا سکتا، تاہم تجربہ کار کوہ پیما اپنے تجربات اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر جو رائے قائم کر رہے ہیں اس پر متعلقہ اداروں کو سنجیدگی سے تحقیق کی ضرورت ہے۔

حکومت سمیت کوہ پیمائی سے تعلق رکھنے والے افراد کو اس بارے میں غور کرنا ہوگا کہ آیا یہ کوئی حادثہ تھا یا اس کے پیچھے کوئی سازش یا غفلت تھی ۔

کئی کوہ پیما اس پر متفق ہیں کہ اس مہم میں بہت سے واقعات غیر معمولی، غیر متوقع یا مشکوک کہے جاسکتے ہیں جن کی تحقیقات ضرور کی جانی چاہئیں۔

پاکستان کے بین الاقوامی شہرت یافتہ اور تمغہ برائے حسن کارکردگی پانے والے کوہ پیما نذیر صابر نے سب سے پہلے نیپالیوں کی لگائی گئی رسی کے حوالے سے سوال اٹھائے ہیں۔

ایک ویڈیو میں نذیر صابر کہتے نظر آتے ہیں کہ نیپالیوں نے جو رسی لگائی تھی وہ اس کا ایک ایک انچ اتار کر واپس لے گئے تھے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ علی سدپارہ کی ٹیم میں ان کے علاوہ کوئی ایسا نہیں تھا جو یہ رسی لگاتا۔ جان اسنوری فراسٹ بائٹ کا شکار تھا، موہر پروفیشنل کوہ پیما نہیں تھا اور نہ ہی اتنا تجربہ کار کہ اتنی اونچائی پر رسی لگاتا اور ساجد بھی واپس آچکا تھا، ایسے میں علی سدپارہ اکیلا کیا کیا کرتا۔

ایک اور کوہ پیما اور محقق عمران حیدر تھہیم کا کہنا ہے کہ بڑے پہاڑوں پر ان پر ساز و سامان کے استعمال کے بغیر کوہ پیمائی ناممکن ہوتی ہے۔

کسی بھی پہاڑ پر چڑھنےکے لیے سب سے پہلے کوہ پیماؤں کی حفاظت کے لیے بیس کیمپ سے چوٹی تک مختلف ٹکڑوں میں مضبوط رسی لگائی جاتی ہے۔ عام طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ کوہ پیما کی لائف لائن رسی لگا کر بنائی گئی ایک فکسڈ لائن ہوتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں