فشریز میں غیر قانونی بھرتیاں؛ نثار مورائی اور دیگر مجرموں کو 11 برس قید کا حکم

سلطان قمر صدیقی بھی شامل، مجرموں نے 380 غیرقانونی بھرتیاں کیں اور ٹھیکوں میں کرپشن کی، نیب ریفرنس کا فیصل
کراچی: احتساب عدالت نے چیئرمین فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی نثار مورائی، سلطان قمر صدیقی اور دیگر مجرموں کو غیر قانونی بھرتیوں اور ٹھیکوں سے متعلق ریفرنس میں مجموعی طور پر 11 برس قید کی سزا سنادی۔

کراچی کی احتساب عدالت نے چیئرمین فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی نثار مورائی اور دیگر مجرموں کے خلاف غیر قانونی بھرتیوں اور ٹھیکوں سے متعلق ریفرنس کا فیصلہ سنادیا۔ عدالت نے نثار مورائی، سلطان قمر صدیقی اور دیگر مجرموں کو 7,7 سال قید کی سزا سنادی ان میں عمران افضل اور شوکت حسین شامل ہیں۔

عدالت نے مجرموں پر دس دس لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔ عدالت نے نثار مورائی کو جعلی بھرتیوں کے جرم میں 4 سال قید کی سزا سنائی اور جعلی بھرتیوں پر 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ نثار مورائی نے فشریز میں 143 غیر قانونی بھرتیاں کیں اور 20 افراد کو مستقل کیا، نثار مورائی کے خلاف غیر قانونی بھرتیوں کا الزام ثابت ہوتا ہے، دیگر ملزموں کے خلاف غیر قانونی بھرتیوں کا الزام ثابت نہیں ہوتا۔

نیب کے مطابق سلطان قمر صدیقی نے فشریز میں اپنے تین رشتے داروں کو تعینات کیا تھا، ریفرنس میں ایک ملزم عبدالمنان تاحال مفرور ہے، مجرموں نے غیر قانونی طور پر 380 بھرتیاں کیں۔

نیب کے مطابق مجرموں کے خلاف نیب ریفرنس 2018ء میں دائر ہوا، ریفرنس میں 32 گواہان کو شامل کیا گیا، مجرموں نے غیر قانونی بھرتیاں کرکے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا تھا۔

جیل ہمارا دوسرا گھر ہے، گھبرانے والے نہیں، نثار مورائی

فیصلے کے بعد ڈاکٹر نثار مورائی نے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ جیل ہمارا دوسرا گھر ہے، ہم گھبرانے والے نہیں، مردوں کی طرح سامنا کریں گے، یہ سزا ہمارے لیے اعزاز ہے، ہم پیپلز پارٹی والوں کے لیے سزائیں تمغہ ہیں، ہمیں سزا غریب لوگوں کو نوکریاں دینے پر ملی، روٹی، کپڑا اور مکان کے نظریے پر قائم ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں