جاڑے کا موسم۔۔۔مشعل شاہد

”دھئی رانی کی سوچ رئی ایں“
ماں نے سوچوں میں ڈوبی رانی کو پوچھا جو نہ جانے کن خیالوں میں کھوئی تھی اور موجودہ حالات سے الگر دکھ رہی تھی۔ ماں آواز پر رانی نے سر کو ہلایا اور لاپروائی سے بولی:
کچھ نہیں امی…… پس ایسے ہی
اس کے باوجود امی رانی کو ٹکٹکی باندھے دیکھتی رہیں اور رانی چپکے سے اٹھ کر چل پڑی
ہم م م م …… کچھ نہیں
”بوت پلہ نہ نمنا …… بوت پلی نہ توپ
بوت پلہ نہ ہنسنا…… بوت پلی نہ چوپ
امی نے پنچابی محاورہ کہا اور ادرک کوٹنے میں مصروف ہوگئین،
”پس…… اللہ خیر کرے“
رانی ماں کی باتیں سنتی ہی اور پریشانی دور کرنے کے لئے دروازے سے پلتے جھٹ سے ماں کے گلے لگ گئی
”امی جی کوئی گل نہیں۔۔۔تُو سی پریشان نہ ہووو“۔ یہ کہہ کر رانی باہر صحن میں ٹہلنے لگی۔ جنوری کی یہ صبح اس قدر غضب تھی کہ کوئی بھی باہر جانے کو ترجیح نہ دیتا۔ جو جہاں تھا وہیں بسیرا کر بیٹھا۔ اس شدید سردی نے سب کو ساکن اور قید کر رکھا تھا۔ چرند، پرند، درخت غرض ہر چیز ساکت تھی اور سورج کی تپش کے انتظار میں تھی۔
رانی اس تمام منظر کو تکتی رہی اور اس کی سوچیں شائد اس ٹھنڈ میں پگھل رہی تھیں۔ یہ موسم اس کو لطف دے رہا تھا اور روح کوسکون، اُون کی بنی جرسی ہی اُس کے جسم کو گرم رکھنے کیلئے کافی تھی لیکن سوچوں کا لاوا ذہن میں اُبل رہا تھا۔
اپنے خیالات کی گتھلی ک لئے رانی گھر کی دہلیز پار کر آئی۔ دھند کے بادل جو بتدریج بڑھ رہے تھے لیکن رانی کے کندھے اسے محسوس نہ کرسکے۔
سامنے طویل سڑک رانی کو اپنی سوچوں میں چھوٹی لگنے لگی۔ اپنے خیالات و احساسات کی کڑی کو سلجھانے چل پڑی۔ اس بوجھ سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے سڑک اور راستے میں آنے والی تمام چیزوں سے موازنہ کرنا ٹھان لیا۔
ہوسکتا ہے یہ سڑک اور خار دار جھاڑیاں زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوں۔
سڑک کے دونوں اطراف کہیں سُروٹنے گھیراؤ کیا ہوتا کہیں کیکر، کبھی بیری کے زخمی کردینے والی کانٹے آتے کبھی کوئی اِ کا دُکا مٹی کا گھروندا
سردی کی شدت جو کم نہ ہورہی تھی اور سڑک سنسان تھی لیکن رانی چلے جارہی تھی
اس سرد موسم میں سوچوں اور سڑک کے درمیان موازنہ کرکے ذہنی کرب کم کرنا چاہتی تھی، چند قدم چلنے کے بعد اس کا ہاتھ کسی خودرو جھاڑی سے لگا اور بے ساختہ چیخی۔ اُف۔
ساتھ ہی کسی رشتہ دار کے الفاظ کانوں میں گونجے۔۔۔۔!
رانی یہ کیا تم ہر وقت چادر کی بُکل لئے رہتی ہو۔ کبھی لڑکیوں کی طرح دُوپٹہ لے لیا کرو۔ کیا ہوتا ہے اس سے، ہر وقت پینڈو لڑکی لگتی ہو۔ اپنی حالت تو تم نے بہت ہی خراب کرلی ہے۔ اپنی عمر سے بڑی بھی اس لئے لگتی ہو۔باجی نے تو رانی کو گھریلو عورت ہی بنادیا ہے۔
رانی یہ الفاظ اکثر لوگوں سے سُنتی اور ظاہر کئے بغیر کسی الجھن میں مبتلاء رہتی۔ خود رو جھاڑی کے لگے زخم پر ہاتھ رکھے آگے بڑھ گئی۔
دھند بھی شائد رانی کی سوچوں اور ذہنی الجھن سے واقف ہونا چاہ رہی تھی اور آہستہ آہستہ مزید گہری ہوتی جارہی تھی۔ اس کے باوجود وہ کسی نئے چیلج کے لئے بڑھی، دھند کی بارش ہوتی رہی، ساری سڑک بھیگ چکی تھی۔
رانی نے آسمان کی طرف دیکھا جہاں صرف سفید دھواں تھا۔ اچانک اس کے پاس سے دوعورتیں تہمند پہنے، سر پر ٹوپیاں سجائے اور اپنے پاؤں سے بڑے جوتے پہنچے گزریں۔
اکیلی لڑکی کو سنسان سڑک پر چہل قدمی کرتے دیکھ کر حیران ہوئیں۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہ دونوں گھر سے کسی مجبوری کے تحت نکلی ہوں پر رانی نے تو اپنا بوجھ اتارنے کی غرض سے سفر شروع کیا تھا۔
عورتوں نے موسم کی شدت اور تنہا لڑکی کو دیکھا تو بے ساختہ پوچھ بیٹھیں:
”نئی دھیئے کِتھے جاندی پئی ایں …… اِنئی ٹھنڈ وچ“
رانی عورت کے اس احساس بھرے جملے کو سن کر اس کی جانب دیکھنے لگی اور مناسب جواب دئیے بغیر خاموش رہی جیسے وہ کچھ سوچ رہی ہو۔ کچھ ماپ تول رہی ہو۔ اور تھابھی کچھ ایسا ہی……!
ہاں …… ہاں …… رانی میں نے اس برانڈ کا سُوٹ خریدا ہے۔
دیکھو کتنا پیارا ہے، میں تو بس یہیں سے کپڑے خریدنا پسند کرتی ہوں۔
پھر ان لوگوں کے روئیے دہرانے لگی جو پیسے اور امیری کے سبب، احساس، محبت اور عزت جیسے رشتوں کو فراموش کرتے ہیں کہ احساس کے لئے پیسہ یا امیر ہونا لازم ہے یا جو جس قدر مہنگے کپرے پہنے وہ زیادہ جانتا ہے اور جو ایسا نہ کرے وہ کم علم یا وہ کچھ جانتا ہی نہیں اور نئے آنے والے فیشنز سے بے خبر،
پاس سے گزرنے والے ٹرک کے ہارن نے رانی کو سوچوں سے آزاد کیا۔ ایک دم سر ہلایا یا جیسے زور دار ہاں کی آواز نے ڈرایا ہو۔ چلتے چلتے چائے کا ڈھابہ دیکھ کر کچھ لمحے وہاں بیٹھی رہی جو کہ صرف ڈھانچہ ہی کھڑا تھا اور کوئی آدمی یا سامان موجود نہ تھا۔
وہاں کچھ دیر بیتھ کر دائیں بائیں دیکھتی رہی جیسے اپنے اندر پلنے والی سوچوں اور خیالات سے تھک گئی ہو۔
خاموش سڑک اور رانی کے درمیان اب کوئی نہ تھا۔ تانگہ، ریڑھی کی آواز نے خلل ڈالا۔
اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی اور سڑک کے درمیان آکر کچھ لمحے اسے دیکھتی رہی جو مختلف جگہوں تک پہنچنے کا ذریعہ تھی۔ رانی اپنے بے شمار سوچوں اور خیالات کے ساتھ آگے برھی۔ اپنے کندھے سے چادر کو درست کرنے لگی اور وہ عورتیں اب تک غائب ہوچکی تھیں،
باجی جی آؤگی؟؟ سواری رکشہ پاس سے گزرا تو اس کے ڈرائیور نے مخاطب کیا جس کی آواز سے رانی دوبارہ خیالات کی دنیا سے واپس آئی۔
نہیں شکریہ…… رانی نے سرسری سا جواب دی اور رکشہ چلا گیا۔
سر میں ذرا سا درد محسوس ہوا تو گھر جانے کا سوچا۔ اس کے ساتھ ہی سامنے بززرگ کو حقہ کے لئے آگ جلاتے ہوئے دیکھا۔ نمی کے سبب ساری لکڑیاں گیلی تھیں اور آگ کم دھواں زیادہ تھا۔ جو آسمان کی طرف سمت جارہا تھا۔
دکھ دینے والی اور تکلیف کا باعث بننے والی سوچوں کو آگ کے دھوئیں کی طرح غائب کرکے رانی نے گھر کی طرف قدم بڑھائے۔
سامنے ایک چالاک چلتر عورت جو ایک بوڑھیا سے اس کی معصومیت کا فائدہ لینے پر تُلی ہوئی تھی۔ رانی نے چالاک عورت کو دیکھ کر تیوری چڑھائی اور اس کے اس عمل و حرکت پر شدید غصہ آیا۔ چند ہی لمحوں میں مختلف باتوں کو دہرانے لگی کہ ایسا ہی عمل پہلے بھی دہرا چکی ہے جب دوبھائیوں میں زمین کے ٹکڑے کا تنازعہ تھا جس میں امین کا لاڈلا بھائی اس کی قربانیوں، اس کے احسانات اور احساسا کو بھول کر ہر دوسرے دن جھگڑا کرتا۔ حق پر قائم بھائی یکھ اور سن کر دل برداشتہ ہوا اور اپنی معصومیت پر دکھی۔
لوگوں کے ایسے روئیے اور ذہنیت کو جان کر رانی کو غصہ بھی آیا۔ دھند کی بوندا باندی کے باوجود سُرخ ہوگئی کہ انسان اس قدر ظالم ہوتا ہے کہ ایک معمولی سے ٹکرے کے لئے احسانات بھول جاتا ہے اور کسی کی معصومیت کا بھرپور فائدہ اٹھاتا ہے۔
ہوا کی سرسراہٹ جسم سے گزری اور کپکپاہٹ محسوس کی۔

مشعل شاہد

مصنفہ یونیورسٹی آف سرگودھا کے شعبہ بی۔ایس۔اردو کی طالبہ ہیں ، جو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنے مقالہ جات پیش کر چکی ہیں۔ وہ قلم کی طاقت سے خواتین کے سماجی مسائل کو اجاگر کرتی ہیں جبکہ ادب اور افسانہ نگاری میں خصوصی دلچسپی رکھتی ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں