مشاہداللہ خان کو اسلام آباد کے ایچ11قبرستان میں سپرد خاک کیا جائے گا

نون لیگی راہنماءکی زندگی پر ایک نظر‘روالپنڈی میں پیدا ہونے والی مشاہداللہ خان نے سیاسی سرگرمیوں کا آغازکراچی سے کیا

اسلام آباد(ای نیوز نیٹ ورک آن لائن۔18 فروری ۔2021ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد اللہ خان بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب اسلام آباد میں انتقال کر گئے ہیں 68 سالہ مشاہداللہ خان کو مسلم لیگ (ن) کی جانب سے آئندہ سینیٹ انتخابات میں عام نشست پر الیکشن لڑنے کے لے ٹکٹ بھی جاری کیا گیا تھا ان کی نمازِ جنازہ آج دوپہر ادا کی جائے گی مرحوم کے صاحبزادے افنان اللہ خان کے مطابق مشاہد اللہ خان کی نمازِ جنازہ دوپہر اڑھائی بجے اسلام آباد میں ادا کی جائے گی جس کے بعد انہیں ایچ 11 قبرستان اسلام آباد میں سپردِ خاک کیا جائے گا.
مشاہد اللہ خان کی پیدائش 1953 میں راولپنڈی میں ہوئی ابتدائی تعلیم راولپنڈی سے حاصل کی اورپھر کراچی یونیورسٹی سے ایل ایل بی کیا اس وقت وہ ایوی ایشن کمیٹی کے چیئرپرسن تھے. ہاﺅس آف بزنسز کی ایڈوائزری کمیٹی، پارلیمینٹری کمیٹی برائے کشمیر، پارلیمینٹری کمیٹی برائے نیشنل سکیورٹی، چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشن آف پاکستان کے تقرر سے متعلق کمیٹی کے ممبر سمیت کل 12 کمیٹیوں کے رکن بھی تھے 1975 سے 1997 تک پی آئی اے کے ٹریفک سپروائزر رہے.
1997 سے 1999 تک افرادی قوت اور سمندر پار پاکستانیوں سے متعلق وزارت میں ایڈوائزر رہے 1999 میں کراچی میونسپل کارپوریشن میں ایڈمنسٹریٹر کے عہدے پر گئے لیکن پھر پرویز مشرف کی جانب سے مارشل لا لگائے جانے کے بعد تین ماہ بعد ہی انھیں یہ عہدہ چھوڑنا پڑا وہ 1994 سے 1999 تک سیکرٹری جنرل لیبر وونگ کے عہدے پر رہے اور 2000 سے 2001 تک مسلم لیگ (ن )کے چیف کوارڈینیٹر رہے 2002 سے لے کراب تک وہ مسلم لیگ( ن) کے مرکزی نائب صدر تھے.
مشاہداللہ خان اپنے بے باک بیانات اور جارحانہ وفاداری کے سبب شریف برادران کو پسند تھے پرویز مشرف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد انہوں نے ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ایڈمنسٹریٹر اوروزیر محنت اور افرادی قوت کی حیثیت سے استعفی دیدیا. اپنی جماعت کے حلقوں میں قابل احترام ہونے کے باوجود ان کا مزاج اور عوامی بیانات دیتے ہوئے جارحانہ رویہ اکثر ان کے لیے مسائل کھڑے کرنے کا سبب بنامشاہداللہ خان نواز شریف کے قابل بھروسہ ساتھی تھے اسی لیے پہلے انہیں مسلم لیگ (ن) کا مرکزی سیکرٹری اطلاعات بعدازاں 2009 میں سینیٹڑ بنادیا گیاوہ کئی برسوں تک اپنی جماعت کے ترجمان بھی رہے ن کی وفات کی تصدیق مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے ایک ٹوئٹ میں کی جس میں انہوں نے متوفی سینیٹر کو سابق وزیراعظم نواز شریف کا ‘وفادار اور غیر معمولی ساتھی کہتے ہوئے خراج تحسین پیش کیا.
اپنے پیغام میں مریم نواز نے کہا کہ مجھے یہ افسوسناک خبر سن کر دھچکا لگا، ان کی پدرانہ شفقت اور محبت کبھی بھلائی نہیں جاسکتی بہت، بہت بڑا نقصان وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا علاوہ ازیں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے بھی ایوان بالا کے رکن سینٹر مشاہد اللہ خان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا.
اپنے پیغام میں اسد قیصر نے کہا کہ مشاہد اللہ خان ایوان بالا کے ایک فعال رکن تھے، ان کی وفات سے پارلیمان ایک متحرک سیاسی رہنما سے محروم ہو گیا جبکہ ڈپٹی اسپیکر کا کہنا تھا کہ مشاہد اللہ خان کی سیاسی اور سماجی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گاایک بیان میں انہوں نے کہا کہ مشاہداللہ خان تجربہ کار سیاستدان اور ایک اچھے انسان تھے انہوں نے ان کی مغفرت کے لیے دعا بھی کی.
مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا کہ پارٹی ایک انتہائی بہادر اور زیرک پارلیمنینٹیرین سے محروم ہوگئی ہے‘ رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ انہیں مشاہداللہ ان کی وفات کا سن کر بہت دکھ ہوا، یہ ایک بڑا نقصان ہے ہماری دلی تعزیت ان کے اہل خانہ اور مسلم لیگ (ن) کے تمام ورکرز کے ساتھ ہے. پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور صوبائی وزیر سعید غنی نے ایک تعزیتی پیغام میں کہا کہ سیاسی اور نظریاتی اختلافات کے باوجود میں نے ہمیشہ یہ تسلیم کیا کہ مشاہد اللہ خان ایک بہادر، جمہوریت پسند اور اپنے موقف کا کھل کر اظہار کرنے والے سیاسی کارکن ہیں ان سے ایک پرانا تعلق رہا جو ہمیشہ یاد رہے گا.

اپنا تبصرہ بھیجیں