شہرِ مرگ ۔۔۔سیدہ ہما شیرازی

شہرِ مرگ

شہر اقتدار سے کوئی محبت بھرا کتابی تحفہ موصول ہوئے
بڑے دن گزر چکے تھے آخرکار یہ لمبی خاموشی جناب طاہر نواز کے منفرد ناول “شہرِ مرگ” کی آمد پر ٹوٹی
زندگی کی باریکیوں کو تخلیقی عمل کی شکل دینے والا انسان ہی “شہرِمرگ” جیسا ناول تخلیق کرسکتا ہے بہن اور بھائی کی محبت سے شروع ہونے والی یہ کہانی آغاز سے ہی قاری کو پھرپور جذباتی کیفیت میں جکڑ لیتی ہے یہ ہر اُس انسان کی کہانی ہے جو اس دنیا میں کسی بھی صورت میں اپنا شہرِ مرگ آباد کیے ہوے ہے ہر کہانی کی بانو محبت کا استعارہ ہے اور اُس کی غیر موجودگی میں زندگی شہر مرگ کا روپ دھار لیتی ہے
مجھے ناول پڑھتے ہوئے کسی بھی سطح پر یہ محسوس نہیں ہوا کے تخلیق کار کا ناول کی دنیا میں یہ پہلا قدم ہے جس سادہ اور رواں اسلوب کے ذریعے کہانی کو الفاظ کی شکل میں ڈھالا گیا ہے وہ اپنی جگہ قابل تحسین ہے
مجھے ناول میں کہانی واقعات سے ذیادہ مناظر کی صورت میں آگے بڑھتی ہوئی معلوم ہوتی ہے یہ فن بہت کم تخلیق کاروں کے ہاں پایا جاتا ہے جبکہ اس ناول میں اس فن سے خوب استفادہ کیا گیا ہے
کتاب پر مصنف کی تصویر کی غیر موجودگی ہمیں تخلیق سے تخلیق کار تک جوڑتی ہے اس صورت میں مصنف کا پہلا تعارف اُس کی الفاظ بنتے ہیں
یہ ناول ایک بھرپور تحریر کا متقاضی ہے اور یہ تقاضا آنے والے چند دنوں میں پورا کیا جائے گا
دعا ہے کے شہرُ مرگ کی صورت میں شروع ہونے والا افسانوی دنیا کا یہ سفر اسی کامیابی کے ساتھ جاری رہے ۔۔۔آمین

سیدہ ہما شہزادی

مصنفہ اردو ادب کی طالبہ ہیں ، جو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنے مقالہ جات پیش کر چکی ہیں۔ وہ قلم کی طاقت سے خواتین کے سماجی مسائل کو اجاگر کرتی ہیں جبکہ ادب اور فکشن میں خصوصی دلچسپی رکھتی ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں